کراچی: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یوکرین جنگ کے باعث عالمی سپلائی لائنز میں پیدا ہونے والے تعطل سے عالمی منڈی میں خام تیل (کروڈ آئل) کی قیمتیں گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جہاں بعض فزیکل کارگوز کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب جا پہنچی ہیں۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کے معیار ‘ڈیٹڈ برینٹ’ (Dated Brent) نے ایل ایس ای جی (LSEG) کے اعداد و شمار کے مطابق 105.70 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھو لیا ہے، جو مئی کے آخر کے بعد بلند ترین سطح ہے اور جون کے آغاز کے بعد پہلی بار 100 ڈالر کی حد عبور کر گئی ہے۔ تیل کے بروکر تاماس وارگا کا کہنا ہے کہ بازارِ حصص میں سپلائی کی فراہمی سے متعلق خدشات ایک بار پھر شدید ہو گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے علاوہ، قازقستان نے بحیرہ اسود میں واقع اپنے اہم ایکسپورٹ ٹرمینل ‘سی پی سی بلینڈ’ کو مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمینل کی بندش کے بعد قازقستان میں خام تیل کی روزانہ کی پیداوار آدھی رہ کر تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ تک محدود ہو گئی ہے، جس نے عالمی سطح پر فوری فراہمی کے بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔

