واشنگٹن: امریکی انتظامیہ نے جبری مشقت کی روک تھام اور اس سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندیاں عائد کرنے میں ناکامی کو جواز بناتے ہوئے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور برطانیہ سمیت 60 سے زائد تجارتی شراکت دار ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے (USTR) جیمیسن گریر کے مطابق ان نئے برآمدی محصولات کا اطلاق 24 جولائی سے باقاعدہ شروع ہو رہا ہے۔
یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی ‘ٹریڈ ایکٹ’ کے سیکشن 301 کو استعمال کرتے ہوئے اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دیے گئے سابقہ عالمی ٹیرف کا متبادل قائم کرنا ہے۔
جاری کردہ فہرست کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، کینیڈا، برطانیہ، میکسیکو اور ملائیشیا سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف جبکہ چین اور دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرف لاگو ہوگا۔
تاہم خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس، کھاد اور پہلے سے سیکشن 232 کے تحت شامل اسٹیل و ایلومینیم کو ان ٹیرف سے استثنا حاصل رہے گا۔
جاپان، آسٹریلیا، برازیل اور ناروے سمیت متعدد متاثرہ ممالک نے امریکی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ، بے بنیاد اور آزاد تجارتی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے بھی امریکی حکام کو جبری مشقت کی تحقیقات سے متعلق تفصیلی وضاحتیں اور جوابات جمع کرائے ہیں۔
واضح رہے کہ اگست 2025 میں پاک امریکہ تجارتی مذاکرات کے بعد واشنگٹن نے پاکستانی برآمدات پر ٹیرف 29 فیصد سے گھٹا کر 19 فیصد کر دیا تھا، تاہم اس تازہ امریکی اقدام کے بعد پاکستانی برآمدی شعبے کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔

