افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت میں شدت؛ بدخشاں میں شدید جھڑپیں

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی تحریکوں اور مخالف گروہوں کی کارروائیوں میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے۔

صوبہ بدخشاں کے مختلف علاقوں جیسے یفتل، زیبک اور توپ خانہ میں طالبان مخالف گروہوں کی جانب سے مربوط اور مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں طالبان رجیم کی خطے پر گرفت مسلسل کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق توپ خانہ کے علاقے میں طالبان کی سیکیورٹی چوکیوں پر ہونے والی شدید جھڑپوں کے دوران 15 طالبان اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ لڑائی کے دیگر اضلاع تک پھیلنے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل نو تشکیل شدہ مسلح گروہ ‘سپاہیانِ میہن’ نے بدخشاں کے ضلع ‘یفتلی سفلی’ میں ضلعی ہیڈکوارٹر، پولیس اور انٹیلی جنس دفاتر پر عارضی قبضہ کر کے طالبان کا پرچم اتار دیا تھا اور وہاں موجود تمام تر اسلحہ و گاڑیاں اپنے تحویل میں لے لی تھیں۔ اس گروہ میں سابق افغان سیکیورٹی اہلکار اور مقامی باشعور شہری شامل ہیں۔

افغان میڈیا اور ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل (SATP) کی رپورٹس کے مطابق، بدخشاں میں طالبان کے اندرونی اختلافات بھی عروج پر پہنچ چکے ہیں۔ ضلع قاری مطیع الرحمان کو تقرری کے محض ایک ہفتے بعد ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا جس سے اندرونی دراڑیں مزید واضح ہو گئی ہیں۔

علاوہ ازیں، طالبان مخالف معروف تنظیمیں ‘نیشنل ریزسٹنس فرنٹ’ (NRF) اور ‘افغانستان فریڈم فرنٹ’ (AFF) بھی بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں متحرک ہیں۔ این آر ایف نے حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ (ایکس) پر مزاحمتی کارروائیوں اور اہم علاقوں میں اپنے مسلح اہلکاروں کے گشت کی تازہ ترین ویڈیوز جاری کی ہیں، جس سے افغان سرزمین پر طالبان کے لیے سیکیورٹی چیلنجز میں مزید اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے۔