پاسدارانِ انقلاب کی برطانیہ کو ایران کے خلاف امریکا کو فوجی اڈے دینے پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
تہران: ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے برطانیہ کو شدید نتائج سے خبردار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر برطانیہ کی سرزمین یا فضائی اڈے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جاری عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو نشانہ بنانا قانونی اور جائز حق تصور کیا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب نے برطانوی حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ اپنے تاریک نوآبادیاتی ماضی پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کرے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، بحرِ ہند میں موجود امریکی بحری جہازوں کے کروز میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد امریکی فورسز نے انگلینڈ میں واقع ‘آر اے ایف فیئرفورڈ’ (RAF Fairford) کے فضائی اڈے سے بی-1 (B-1) ستراتیژک بمبار طیارے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والی کسی بھی غیر ملکی تنصیب کو ایرانی افواج کی جانب سے ہدف بنایا جائے گا۔ بیان میں برطانیہ کی تاریخی پالیسیوں، بشمول فلسطین پر قبضے اور اسرائیل کے قیام کے عمل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے اس سخت بیان کے بعد برطانوی حکومت کا موقف بھی سامنے آیا ہے۔ حکومتی ترجمان نے واضح کیا کہ برطانیہ کی مسلح افواج رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کسی بھی بیرونی حملے یا خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے 24 گھنٹے تیار ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کثیر سطحی فضائی اور میزائل دفاعی نظام کے تحت ملک کا دفاع یقینی بنائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کو دونوں ممالک کے مابین موجودہ دفاعی معاہدے کو بحال کرنے کی بریفنگ دی گئی تھی، جس کے تحت امریکا کو برطانوی عسکری اڈے استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

