اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارت کا ہاتھ بالکل واضح ہے، جو دہشت گردوں کو وسائل اور فنڈنگ فراہم کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب افغان عبوری حکومت دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
اسلام آباد میں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری افواج، سیکیورٹی اداروں اور عوام سمیت 90 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔
2018ء میں دہشت گردی کا تقریباً خاتمہ ہو چکا تھا لیکن ایک منظم سازش کے تحت اسے واپس لایا گیا، تاہم اب ملک سے اس کا مکمل صفایا کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
انہوں نے حال ہی میں مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم اور کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کی تاریخ اور قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑے اس صوبے کی ترقی کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں بلوچستان کو 150 ارب روپے دیے، جبکہ وفاق نے صوبے کے 27 ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی (سولر) پر منتقل کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "معرکہ حق” میں دشمن کی شکست اور خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، اور اس سلسلے میں انہوں نے فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کاوشوں کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

