نئی دہلی: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت میں اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے طاقت کے بے جا استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین پر تشدد فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی تنظیم نے واضح کیا ہے کہ جمہوری معاشرے میں پرامن اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے شہریوں کی آواز سننا انتہائی ضروری ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بھارتی حکام نے نوجوان مظاہرین کو نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ سے روکنے کے لیے غیر ضروری اور حد سے زیادہ فورس کا استعمال کیا۔
اس کے علاوہ سیکیورٹی کے نام پر دارالحکومت اور اطراف کے علاقوں میں میٹرو سروسز معطل کی گئیں جبکہ متعدد مقامات پر موبائل انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی، تاکہ شہریوں کی نقل و حرکت اور رابطوں کو محدود کیا جا سکے۔
عالمی تنظیمی اعلامیے میں بھارتی حکومت سے زور دے کر کہا گیا ہے کہ مظاہرین پر پولیس کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شدید شیلنگ اور دیگر پرتشدد اقدامات کی فوری، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اداروں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے طے شدہ اصولوں کا پابند بنایا جائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت میں نوجوانوں کی جانب سے جاری حالیہ احتجاج اور ان پر پولیس کے سخت ردِعمل پر عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

