واشنگٹن: شدید سیاسی کشمکش اور شدید اختلافات کے باوجود امریکی ایوانِ نمائندگان نے مالی سال 2027 کے لیے 1.15 ٹریلین ڈالر (11 کھرب 50 ارب ڈالر) کا تاریخی و ریکارڈ دفاعی بجٹ (نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ) منظور کر لیا ہے۔ ایوان میں بل کی منظوری کے لیے 216 ارکان نے حمایت جبکہ 212 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
بل کی حمایت زیادہ تر ریپبلکن ارکان اور 6 ڈیموکریٹس نے کی، جبکہ ڈیموکریٹک اکثریتی ارکان نے بجٹ کی مخالفت کی اور سماجی شعبوں کے اخراجات میں کٹوتیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
منظور کیے گئے بل کے تحت امریکی فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ، جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کی تیاری اور جنگی سازوسامان کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔
بل کی ایک اہم اور متنازع شق کے مطابق پینٹاگون کے ایگزیکٹیو ایجنٹ کی نامزدگی کے ذریعے امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی و عسکری ٹیکنالوجی کے تعلقات اور سپلائی چین کو باہم ضم کیا جائے گا۔
اس شق پر ڈیموکریٹس اور انسانی حقوق کے حلقوں کے علاوہ ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے بھی اعتراض اٹھایا کہ امریکی فوجی ٹیکنالوجی کو اسرائیل سے اس حد تک مربوط نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے لیے کانگریس سے اضافی 87 ارب ڈالر کے فنڈز کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ ایران کے خلاف عسکری اقدامات پر اب تک 37.5 ارب ڈالر لاگت آ چکی ہے۔ وزیرِ جنگ کا کہنا تھا کہ عالمی خطرات سے نمٹنے کے لیے پینٹاگون کو مکمل فنڈنگ درکار ہے۔
ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد اب یہ قانون سازی حتمی بحث اور ترامیم کے لیے امریکی سینیٹ بھیجی جائے گی، جہاں دونوں ایوانوں سے مشترکہ مسودہ طے پانے کے بعد اسے حتمی توثیق کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس بھیجا جائے گا۔

