ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے کو ‘معاہدہ ابراہیمی’ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ کئی ارب ڈالر کے 30 سالہ ‘سول جوہری تعاون معاہدے’ کی منظوری کو ‘معاہدہ ابراہیمی’ (Abraham Accords) میں شمولیت اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کر دیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں امریکی صدر نے واضح کیا کہ سعودی عرب جب تک ابراہیمی معاہدے کا حصہ بن کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر نہیں لاتا، تب تک اس سول جوہری ڈیل کی حتمی توثیق نہیں کی جائے گی۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ صرف اور صرف پرامن اور غیر عسکری مقاصد کے لیے ہوگا۔ اس ڈیل کے تحت سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی، بالکل اسی طرح جیسے متحدہ عرب امارات کے ساتھ امریکی سول نیوکلیئر ماڈل میں شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ ہی حتمی فیصلوں کا اختیار رکھتے ہیں اور سعودی عرب سے ابراہیمی معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

ٹرمپ کی اس شرط کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کا ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے تاریخی پیش رفت ہوگی۔ تاہم، اسرائیلی دفترِ اعظم نے مجوزہ جوہری تعاون کے متن پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

دوسری جانب، اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فارمولے کے تحت عرب ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی کی رسائی فراہم کرنا بالآخر خطے میں ایٹمی دوڑ کا سبب بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور ٹھوس پیش رفت کے بغیر اسرائیل کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ فی الحال ٹرمپ کے اس حالیہ بیان پر ریاض کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔