حوثی باغیوں کے حملے: پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے: وزیراعظم کا محمد بن سلمان سے رابطہ
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے بحیرہ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں (آئل ٹینکرز) پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کے دوران ان حملوں کو قطعی ناقابلِ قبول اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی اور بحری نقل و حمل پر ایسے حملے خطے کے امن، سلامتی اور معاشی استحکام کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اپنے بیان اور ولی عہد سے گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ میں، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک اور امتحان کی گھڑی میں برادر ملک سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل عزم اور مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ انہوں نے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کو دہرایا۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر بحری راستوں میں تجارتی جہاز رانی کی بلا تعطل روانی، امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی و عالمی سطح پر قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔
وزیراعظم نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مسلسل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم دیرینہ برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔

