اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کا بڑا میزائل حملہ؛ 2 امریکی فوجی ہلاک، کئی طیارے تباہ، سینٹکام کا اعتراف

عمان: خلیج میں جاری شدید کشیدگی کے دوران امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے باقاعدہ اعتراف کیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ایران کے حالیہ بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون حملوں کے نتیجے میں 2 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک اہلکار تاحال لاپتا ہے۔

سینٹکام کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی بیان کے مطابق، 17 جولائی کو اردن میں امریکی فورسز اور ان کے اتحادی دستے ایرانی فضائی حملوں کے خلاف دفاعی کارروائیوں میں مصروف تھے کہ اسی دوران وہ بیلسٹک میزائلوں کی زد میں آ گئے۔

ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کو باضابطہ اطلاع دیے جانے تک ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔

سینٹکام نے مزید بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والے 4 امریکی فوجیوں کو فوری طور پر اردن کے مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا، جہاں معمولی زخمی ہونے والے اہلکاروں کو طبی معائنے کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے اور وہ دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں، جبکہ لاپتا فوجی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن اور خطے میں امریکی اڈوں کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب، روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایرانی حملے سے قبل امریکی فوجیوں کا انخلا نہیں کرایا گیا تھا جس کی وجہ سے جانی نقصان ہوا، تاہم تاحال ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے متعلق سینٹکام کے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

اس سے قبل، ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اردن میں قائم امریکہ کی سٹریٹجک ‘الازرق ائیر بیس’ (Azraq Air Base) کو درجنوں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، اس شدید فضائی حملے میں بیس پر کھڑے 2 امریکی فائٹر جیٹس اور 3 فوجی سپلائی طیارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ ائیر بیس کے فائٹر جیٹ شیلٹرز اور پارکنگ ریمپس کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے حالیہ بمباری اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے جواب میں ایران نے اردن، کویت اور بحرین میں قائم تمام امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی اپنا رکھی ہے۔