پاک فوج اور معرکہ حق کے خلاف متنازع بیان کا معاملہ؛ این سی سی آئی اے نے بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی کو طلب کر لیا

اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر جھوٹا، تضحیک آمیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے کے الزام میں طلبی کا باضابطہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔

این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد نے انکوائری نمبر RE-2031/2026 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے نورین نیازی کو 20 جولائی کو دن 12 بجے اصل شناختی کارڈ کے ساتھ پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی ہے۔

ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ وقت پر عدم پیشی کی صورت میں یہ تصور کیا جائے گا کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں پیش کرنے یا کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ نوٹس کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی شق 147 کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ یہ قانونی کارروائی نورین نیازی کے اس حالیہ متنازع بیان کے بعد سامنے آئی ہے جو انہوں نے ایک یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ریکارڈ کرایا تھا۔

اپنے انٹرویو میں انہوں نے ‘معرکہ حق’ کو افواجِ پاکستان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا گٹھ جوڑ اور ایک ڈراما قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کے پیچھے ہونے کے باعث مودی نے پاکستان پر حملے سے گریز کیا کیونکہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ‘ابراہم ایکارڈز’ کا حصہ بننے جا رہا تھا۔

ماہرین نے نورین نیازی کے اس بیان کو ذاتی مفاد پر مبنی بیانیے کی عکاسی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ یہ گمراہ کن دعوے بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کے لیے استعمال کرے گا۔