امریکہ کی مسلسل خلاف ورزیاں؛ ایران نے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد معطل کردیا

تہران: ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور امن مذاکرات کے لیے طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (Islamabad MoU) کے تحت اپنے تمام وعدوں اور ذمہ داریوں کو فی الحال معطل کر دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ امریکہ نے اس فریم ورک کے تحت کیے گئے تمام وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے ایران نے بھی اس پر عمل درآمد روک دیا ہے اور اب تمام تر توجہ ملکی دفاع اور جارحیت کرنے والوں کو سبق سکھانے پر مرکوز ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے صدور نے 17 جون 2026 کو پاکستان کی کئی ماہ کی ثالثی کے بعد 14 نکات پر مشتمل اس جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اس کے تحت حتمی امن کے لیے سوئٹزرلینڈ اور قطر میں براہِ راست و تیکنیکی مذاکرات کے دو دور ہو چکے تھے، تاہم اسلام آباد میں شیڈول تیسرا دور شروع ہونے سے قبل ہی دونوں ممالک کے مابین دوبارہ حملے شروع ہو گئے۔

تازہ ترین امریکی حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے، رابطہ پلوں اور عمارات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بندر خمیر پل پر 3 شہریوں سمیت 30 سے زائد ایرانی شہری جاں بحق ہو گئے۔

پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اس امریکی اقدام کو بین الاقوامی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے میدانِ جنگ کی ناکامی چھپانے اور آبنائے ہرمز کے حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اس ایم او یو کو سبوتاژ کیا۔

امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران اپنی سرحد کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گا اور شہریوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

تہران نے شدید جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، بحرین اور قطر سمیت دیگر خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ سعودی عرب اور اردن میں بھی امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جس میں متعدد امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، یہ پہلی بار ہے کہ ایرانی حکام نے صرف الزام تراشی کے بجائے باضابطہ طور پر مفاہمتی یادداشت کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔