"امریکی صدر کے دستخط بے وقعت اور بے معنی ہیں”؛ معاہدے کی خلاف ورزی پر ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا شدید ردِعمل

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ پر ایران کے ساتھ طے پانے والی حالیہ مفاہمتی یادداشت کی مسلسل اور بار بار خلاف ورزی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق، اپنے ایک تحریری بیان میں سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے دونوں صدور کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی حالیہ خلاف ورزیوں نے ایک بار پھر دنیا پر یہ بنیادی حقیقت واضح کر دی ہے کہ "امریکی صدر کے دستخط بالکل بے وقعت، بے اعتبار اور بے معنی ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ جرائم اور وعدہ خلافیوں کا یہ نیا سلسلہ امریکہ کی بے ایمانی، غیر معقول رویے اور بدنیتی کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تجہیز و تکفین کے دوران لاکھوں افراد کی شرکت ایرانی عوام کے بے مثال اتحاد کا مظہر تھی، مگر اسی دوران بھی امریکہ کی جانب سے دستخط شدہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری رہیں۔

انہوں نے سخت الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں جنگ کو ہوا دے رہا ہے اور تنازع کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ایران نے اس کے لیے ایسے سبق تیار کر رکھے ہیں جنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا اور اس غنڈہ گردی کے نتیجے میں امریکہ کو مزید بھاری قیمت اور ذلت اٹھانا پڑے گی۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ چند ہی دنوں میں ٹوٹ چکا ہے اور دونوں ممالک کے مابین حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

اس کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز ایک بار پھر بند ہو چکی ہے اور وہاں امریکی بحری ناکہ بندی بھی جاری ہے۔ اس نازک صورتحال پر ایرانی سپریم لیڈر نے ملک میں ہر سطح پر قومی یکجہتی برقرار رکھنے، باہمی اختلافات سے بچنے اور ریاستی اداروں و حکام پر بھروسہ قائم کرنے پر زور دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو ہماری طرف سے کمزوری کا کوئی اشارہ نہیں ملنا چاہیے اور ایرانی قوم و مسلح افواج ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر دباؤ کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔