ڈڈیال: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی تحصیل ڈڈیال میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے ریاستِ پاکستان کی حالیہ خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اگر ریاستِ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت اور مفاہمت قائم کروا کر آبنائے ہرمز کھلوا سکتی ہے، تو میری درخواست ہے کہ کشمیر جو بند پڑا ہے اسے بھی سیاسی بصیرت اور مذاکرات کے ذریعے کھلوایا جائے”۔
انہوں نے 27 جولائی کو ہونے والے آزاد کشمیر کے عام انتخابات کو تاریخ کا اہم ترین معرکہ اور ریاست و تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا امتحان قرار دیا، جہاں پیپلز پارٹی کا مقابلہ براہِ راست مسلم لیگ (ن) سے ہے۔
بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر میں جاری حالیہ کشیدگی، پہیہ جام ہڑتالوں اور مظاہروں کے باعث پیدا ہونے والے سنگین بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کی غلطی یا جرم کی سزا پورے کشمیر کے عوام کو دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے وادی میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ بند ہے اور عام شہریوں کو کاروبار، خوراک اور ادویات کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس بحران کے دائمی حل کے لیے چیئرمین پی پی پی نے ایک بار پھر "ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن” قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور مظاہرین دونوں کو اس کمیشن کی فائنڈنگز تک اپنے اقدامات روک دینے چاہئیں، تاہم ابھی تک کسی بھی فریق کی جانب سے اس کا مثبت جواب نہیں آیا۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ بھٹو کا کشمیریوں سے تین نسلوں کا رشتہ ہے اور وہ آصفہ بھٹو کے ساتھ مل کر یہاں کے عوام کو حقِ حاکمیت، حقِ مالکیت اور حقِ روزگار دلوا کر رہیں گے۔
اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور وفاقی وزرا کو سخت آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے کشمیر سے متعلق حالیہ متنازع بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ پبلک فورم پر وضاحت کریں کہ کیا وزیر دفاع کا بیان وفاقی کابینہ کی پالیسی ہے؟
انہوں نے کہا کہ "اگر یہ وفاق کی پالیسی نہیں ہے تو وزیر دفاع کو فوراً لات مار کر کابینہ سے باہر نکالا جائے کیونکہ پیپلز پارٹی کشمیریوں کے ساتھ ایسی ناانصافی برداشت نہیں کرے گی”۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) تو راولاکوٹ، کوٹلی اور میرپور کو کشمیر کا حصہ ہی نہیں مانتی اور یہ کونسا شیر ہے جو کشمیر کے نقشے کو ہی کھا گیا۔
بلاول بھٹو نے ایک اور وفاقی وزیر کے اس دعوے پر بھی تنقید کی جس میں کہا گیا تھا کہ "کشمیر کی 12 نشستیں ہماری جیب میں ہیں”۔
پی پی چیئرمین نے واضح کیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اسلام آباد، پنڈی یا فیصل آباد کی جیبوں میں نہیں بلکہ یہاں کے غیور نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔
انہوں نے کارکنوں کو متحرک کرتے ہوئے کہا کہ 27 جولائی کو آزاد کشمیر کی دھرتی پر ‘شیر’ کا شکار کیا جائے گا اور پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر نفرت اور تقسیم کی روایتی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے گی۔

