گلگت بلتستان اسمبلی نے جی بی کو پاکستان کا عبوری صوبہ بنانے کی مشترکہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی
گلگت: گلگت بلتستان کے عوام کو ملک کے دیگر چاروں صوبوں کے مساوی آئینی، سیاسی اور جمہوری حقوق کی فراہمی کے لیے گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک انتہائی تاریخی اور تزویراتی قدم اٹھایا ہے۔
جی بی اسمبلی نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا "عبوری صوبہ” بنانے کی مشترکہ اور اہم ترین قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اسمبلی کا یہ اہم ترین اجلاس ڈپٹی اسپیکر ملک کفایت الرحمان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں رکنِ اسمبلی سید جلال شاہ نے مشترکہ قرارداد ایوان کے سامنے پیش کی۔
اس تاریخی دستاویز پر حکومت اور اپوزیشن دونوں بینچوں کے متعدد سرکردہ ارکان کے دستخط موجود تھے، جسے بعد ازاں پورے ایوان نے بلا مخالفت متفقہ طور پر پاس کر لیا۔
منظور شدہ قرارداد کے متن میں وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک جامع آئینی ترمیم کے ذریعے گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری صوبہ قرار دے اور یہاں کے عوام کو پاکستان کی قومی اسمبلی، سینیٹ سمیت تمام وفاقی آئینی و انتظامی اداروں میں مؤثر اور مستقل نمائندگی دی جائے۔
قرارداد میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان اسمبلی کی اس خواہش پر عملدرآمد کے لیے فوری طور پر تمام ضروری آئینی، قانونی اور انتظامی اقدامات کا آغاز کرے۔
اس کے ساتھ ہی، قرارداد میں گلگت بلتستان کے لیے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی سفارش کرتے ہوئے قومی وسائل میں خطے کی منصفانہ اور مساوی حصہ داری کی بھرپور حمایت کی گئی ہے۔
قرارداد کے متن میں گلگت بلتستان کی جغرافیائی اور سیاسی حساسیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جی بی کو عبوری صوبائی حیثیت دینے سے مستقبل میں جموں و کشمیر کے استصوابِ رائے پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی اس اقدام سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا تاریخی اور روایتی مؤقف کسی بھی طور تبدیل یا متاثر ہوگا۔
ایوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ عبوری صوبائی حیثیت اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے قطعاً متصادم نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے عین مطابق ہوگی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جی بی اسمبلی کی جانب سے اس مشترکہ قرارداد کی متفقہ منظوری وفاقِ پاکستان کے ساتھ خطے کے عوام کے گہرے سیاسی اور آئینی رشتے کی عکاس ہے، جس پر اب حتمی فیصلہ اسلام آباد کے آئینی ایوانوں کو کرنا ہوگا۔

