ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی جزائر پر زمینی فوج اتارنے اور اہم تنصیبات پر قبضے کا غور، وال اسٹریٹ جرنل کا سنسنی خیز دعویٰ
واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی انتہائی خطرناک رخ اختیار کر گئی ہے۔
امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل” نے اعلیٰ ترین امریکی حکام کے حوالے سے ایک سنسنی خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف روایتی فضائی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر براہِ راست زمینی کارروائی کرنے اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع تزویراتی طور پر اہم ایرانی جزائر پر امریکی زمینی فوج اتارنے کے آپشن پر غور شروع کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے کے لیے متعدد آپشنز کی بریفنگ دی گئی، جس میں ایران کے اہم جزیرے "خارگ” پر قبضے، قلعہ بند جوہری تنصیبات پر بمباری، ان کے ٹنل کمپلیکس اور توانائی کے بڑے مراکز کو براہِ راست نشانہ بنانا شامل ہے۔
اس دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سخت لہجہ اپنایا اور کہا کہ ایران کو بہت جلد شکست دی جائے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب ملاقات کا خواہش مند ہے اور معاملہ طے کرنا چاہتا ہے، تاہم ہم دیکھیں گے کہ ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنا ہے یا نہیں۔
ایرانی پلوں پر ممکنہ حملوں کی حتمی تاریخ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ پیشگی ڈیڈ لائن دینے کے حق میں نہیں ہیں لیکن ایران کو صورتحال کا بخوبی علم ہے اور اسے اپنا رویہ اب درست کر لینا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بناتے ہوئے نئے فضائی حملے کیے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سیریک، اہواز، چابہار اور بندر عباس میں شدید دھماکے سنے گئے ہیں۔
ان حالیہ امریکی حملوں کے نتیجے میں اب تک 7 ایرانی فوجیوں سمیت 30 عام ایرانی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف ایران کی وہ فوجی صلاحیتیں ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
علاوہ ازیں، سینٹ کام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے ایران کی طرف جانے والے ایک ایسے آئل ٹینکر کو میزائل حملے سے ناکارہ بنا دیا ہے جس نے امریکی فوج کی متعدد وارننگز کو نظر انداز کرتے ہوئے علاقے میں قائم ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی تھی۔
امریکی لڑاکا طیارے نے ٹینکر کے دھوئیں کے اسٹیک (ایگزاسٹ) پر گائیڈڈ میزائل داغا جس کے بعد وہ جہاز ایران کی طرف پیش قدمی کرنے کے قابل نہیں رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے زمینی فوج اتارنے پر غور کی خبروں نے خطے میں ایک وسیع جنگ کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

