دوحہ: جدید قطر کے معمار اور سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
قطر کے امیری دیوان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل تعزیتی بیان میں سابق امیر کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ "اللہ تعالیٰ کی رضا پر کامل ایمان کے ساتھ، امیری دیوان قوم کے اس عظیم ترین نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔”
ان کے انتقال کی تصدیق قطری سرکاری میڈیا نے بھی کی ہے، تاہم موت کی فوری وجہ سامنے نہیں آئی۔
انتقال کی افسوسناک خبر عام ہوتے ہی دوحہ کی سب سے بڑی اور معروف ‘امام محمد ابن عبدالوہاب مسجد’ میں نمازِ مغرب کے بعد ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں شاہی خاندان کے ارکان سمیت سیکڑوں شہریوں اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔
سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو جدید قطر کا بانی اور معمار تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے 1995 سے لے کر 2013 تک تقریباً 18 سال قطر پر حکمرانی کی اور اس چھوٹے سے خلیجی ملک کو معاشی، تجارتی، توانائی، سفارت کاری، عالمی میڈیا اور کھیلوں کے میدان میں لا کر دنیا کی صفِ اول کی ریاستوں کے برابر کھڑا کر دیا۔
انہوں نے جون 2013 میں ایک تاریخی اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے 33 سالہ باصلاحیت بیٹے اور موجودہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے سپرد کر دیا تھا، تاکہ نئی نسل ملک کو آگے بڑھا سکے۔
شیخ حمد کے دورِ حکومت میں ہی قطر نے دنیا بھر میں اپنی شناخت بنانے کے لیے کئی انقلابی اقدامات کیے۔ ان کے دور میں ہی مشرقِ وسطیٰ کا پہلا آزاد اور بااثر ترین نشریاتی ادارہ "الجزیرہ” قائم ہوا جس نے عالمی صحافت میں نئی تاریخ رقم کی۔
اس کے علاوہ، قطر ایئرویز کو دنیا کی بہترین فضائی کمپنی بنانا، دوحہ کے جدید ہوائی اڈے کی تعمیر، برطانیہ کے ہیروڈز جیسے عالمی برانڈز میں سرمایہ کاری، اور سب سے بڑھ کر قطر کو "2022 فیفا ورلڈ کپ” کی میزبانی کا تاریخی اعزاز دلانا ان کی دوراندیشی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
انہوں نے عالمی سطح پر سوڈان، افغانستان، فلسطین اور لبنان جیسے نازک مسائل پر کامیاب ثالثی کر کے قطر کو ایک اہم سفارتی گڑھ بنایا۔

