واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین ہفتے کے روز ایک بہترین معاہدہ طے پا گیا تھا، جس کے تحت تہران اپنے جوہری پروگرام سمیت تمام معاملات سے دستبردار ہونے پر راضی ہو گیا تھا، تاہم مذاکرات ختم ہونے کے محض ایک گھنٹے کے اندر ہی ایران نے پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ کر دیا۔
امریکی ٹی وی چینل ‘این بی سی’ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس اشتعال انگیزی کے بعد امریکا نے خاموش رہنے کے بجائے ایران کو اسی کی زبان میں سخت جواب دیا اور رات کے اندھیرے میں ایرانی ٹھکانوں پر شدید بمباری کی، کیونکہ وہ انتہائی بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی اور ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم کی اچانک وفات پر بھی گہرے رنج کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ موت سے چند گھنٹے قبل ہی ان کی گراہم سے فون پر بات ہوئی تھی، وہ تھکے ہوئے ضرور تھے مگر بالکل ٹھیک تھے، اور ان کا اچانک چلے جانا دنیا کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔
پینٹاگون اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق، صدر ٹرمپ کی براہِ راست ہدایات پر امریکی افواج نے 11 جولائی کو ایران کے خلاف اس ہفتے کی تیسری اور سب سے بڑی عسکری کارروائی مکمل کی۔
اس آپریشن میں زمینی و بحری جنگی طیاروں، ڈرونز اور بحری بیڑوں کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایرانی میزائل تنصیبات، ڈرون مراکز، اسلحہ گودام، ساحلی مراکز اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو ملیا میٹ کر دیا گیا، جس کے بعد اب تک نشانہ بننے والے ایرانی اہداف کی مجموعی تعداد 300 سے تجاوز کر چکی ہے۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے سخت لہجے میں تنبیہ کی ہے کہ ایران نے غلط راستے کا انتخاب کیا ہے اور اب اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سفر کرنے والے بحری جہاز کو اس لیے کروز میزائل اور وارننگ شاٹس سے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ غیر منظور شدہ راستے پر سفر کر رہا تھا اور اس نے واپس مڑنے کی ہدایات کو یکسر نظر انداز کیا تھا۔
اس سنگین صورتحال کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو تا حکمِ ثانی ہر قسم کی تجارتی آمدورفت کے لیے بند کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے 7 اور 8 جولائی کو ایرانی جزائر اور جنوبی شہروں پر امریکی بمباری کو سفاکانہ اور یو این چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر امریکا نے طے شدہ ڈیل کے تحت اپنے وعدے پورے نہ کیے اور جارحیت جاری رکھی، تو تہران بھی باہمی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد روک دے گا اور ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا قطعی پابند نہیں رہے گا۔

