واشک: بلوچستان کے ضلع واشک کے سرحدی علاقے ماشکیل میں دہشت گردی کی ایک انتہائی لرزہ خیز اور افسوسناک واردات پیش آئی ہے، جہاں اتوار کے روز نامعلوم مسلح وحشیوں نے دکانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 5 بے گناہ اور نہتے مزدوروں کو قتل کر دیا۔
ڈپٹی کمشنر واشک مجید سرپرہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے تمام محنت کشوں کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع سے تھا جو یہاں دکانوں پر مزدوری کر رہے تھے۔
پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، مسلح دہشت گردوں نے اچانک دکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچوں مزدور موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ملزمان فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، لاشوں کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا اور پوسٹ مارٹم کے بعد مقتولین کے جسدِ خاکی کو ان کے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق، علاقے کی سیکیورٹی کو انتہائی سخت کرتے ہوئے ملوث ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے ایک وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے اور جائے وقوعہ سے اہم شواہد بھی اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اس سفاکانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
صدرِ مملکت نے واضح کیا کہ نہتے محنت کشوں کو نشانہ بنانا کھلا ظلم ہے، لیکن ایسے بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف ہمارے قومی عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ "فتنہ الہندوستان” کے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ معصوم اور روزی کمانے والے غریب مزدوروں کو نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور انسانیت سوز فعل ہے، جس میں ملوث عناصر کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن عناصر اپنے مذموم ایجنڈے کے لیے معصوم شہریوں کا خون بہا رہے ہیں، تاہم حکومت اور ہماری سیکیورٹی فورسز پاکستان سے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے اور وطنِ عزیز کے ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔

