بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف ‘آپریشن شعبان’ مزید تیز؛ 4 اور خوارجی ہلاک، مجموعی تعداد 105 تک پہنچ گئی

کوئٹہ: بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے لیے پاک فوج، فرنٹئیر کونسٹیبلری (ایف سی) اور پولیس کا مشترکہ "آپریشن شعبان” پوری طاقت اور کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف فضائی اور زمینی دونوں محاذوں پر مؤثر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

تازہ ترین کارروائیوں کے دوران فورسز نے سران ٹنگی کے علاقے میں فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر کاری ضرب لگاتے ہوئے مزید 4 خارجیوں کو جہنم واصل کر دیا، جبکہ ایک اور کارروائی میں مزید 3 خارجیوں کو ہلاک کیا گیا۔

ان تازہ ترین کامیابیوں کے بعد صرف ‘آپریشن شعبان’ کے تحت مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 67 تک پہنچ گئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 5 جولائی سے اب تک بلوچستان میں شروع کیے گئے آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 105 خارجی دہشت گردوں کا صفایا کیا جا چکا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے سے آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشن بلا تعطل اور پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔

دوسری جانب، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ‘آپریشن شعبان’ میں سیکیورٹی فورسز کی مسلسل اور نمایاں کامیابیوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔

اپنے تہنیتی بیان میں وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے ان بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں جن کی مشترکہ کارروائیاں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہمارے پختہ عزم کی عکاس ہیں۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ دہشت گرد عناصر کے لیے پاکستان کی دھرتی پر کوئی جگہ نہیں ہے، پوری قوم اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دشمنوں کے خلاف یہ کارروائیاں پوری قوت سے جاری ہیں اور امن کی مکمل بحالی تک جاری رہیں گی۔