وطن واپسی کے عمل میں تیزی؛ وفاقی حکومت کا پاکستان میں عارضی طور پر مقیم غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا آغاز
اسلام آباد: پاکستان میں بغیر دستاویزی دستاویزات اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد وفاق اور صوبائی حکومتوں نے ملک بھر میں ان کی فوری گرفتاری اور بے دخلی کے عمل کو تیز کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
وفاقی حکومت کے احکامات کے مطابق، اب بغیر ویزے اور عارضی سفری اجازت ناموں کے پاکستان کے کسی بھی حصے میں مقیم افغان شہریوں کو فوری طور پر حراست میں لیا جائے گا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس بار کریک ڈاؤن کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا گیا ہے، اور ایسے تمام افراد، مقامی سہولت کاروں یا جائیداد کے مالکان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی جنہوں نے ان غیر قانونی افغان باشندوں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے یا انہیں غیر قانونی طور پر مکانات کرائے پر فراہم کیے ہیں۔
سیکیورٹی اور انتظامی ذرائع کے مطابق، راولپنڈی سمیت پنجاب کے تمام اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی جیو ٹیگنگ اور جیو فینسنگ کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔
اس جدید تکنیکی ڈیٹا کی مدد سے اب سیکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ کے لیے ان کی نشاندہی اور گرفتاری انتہائی آسان ہو چکی ہے۔
وفاقی وزارتِ داخلہ نے جیو ٹیگنگ کی مدد سے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اپنے اضلاع میں فوری کارروائی شروع کرنے کی سخت ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ اس ہدف کو جلد از جلد حاصل کیا جا سکے۔
وفاقی وزارتِ داخلہ نے 28 جون کو آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کے متعلقہ حکام کو اس مہم کے حوالے سے ایک باقاعدہ مراسلہ ارسال کیا تھا، جس میں کارروائیوں کی مانیٹرنگ کے لیے سخت طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
اب تمام صوبوں اور خطوں کی انتظامیہ پابند ہو گی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ وفاقی وزارتِ داخلہ کو ارسال کرے۔
اس یومیہ رپورٹ میں زیرِ حراست لیے گئے بغیر ویزا افغان شہریوں کی کل تعداد، اب تک کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات اور گرفتار کیے گئے افراد کی موجودہ قانونی حیثیت شامل ہو گی تاکہ وطن واپسی کے اس قومی عمل کو شفاف اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔
