بلوچستان میں پاک فوج اور پولیس کی فضائی و زمینی کارروائیاں تیز؛ ‘آپریشن شعبان’ میں مزید 7 دہشت گرد ہلاک، مجموعی تعداد 102 تک پہنچ گئی

کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے مانگی ڈیم میں پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے حالیہ بزدلانہ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے فتنہ الخوارج کے خلاف مشترکہ ‘آپریشن شعبان’ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے زمینی اور فضائی دونوں محاذوں پر سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

ان تازہ کارروائیوں کے دوران مزید 7 خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اب تک صرف ‘آپریشن شعبان’ کے تحت مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 64 ہو گئی ہے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں قیامِ امن کے لیے جاری ‘آپریشن شعبان’ اور دیگر معاون انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 102 تک پہنچ چکی ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان کی دھرتی سے آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے اور امن و امان کی بحالی تک یہ آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا۔

دوسری جانب، صدرِ مملکت، وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف دکھائی جانے والی اس شاندار پیشہ ورانہ مہارت اور کامیابی پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

اپنے بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے ان دہشت گردوں کا جڑ سے خاتمہ انتہائی ضروری ہے اور ان امن دشمنوں کو پاکستان کی حدود میں کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ فورسز کے حوصلے بلند ہیں اور پوری قوم ان بہادر جوانوں کے پیچھے کھڑی ہے۔