وفاقی آئینی عدالت نے ‘مونال ریسٹورنٹ’ گرانے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے وفاقی دارالحکومت کے مارگلہ ہلز پر قائم مشہور پیرسوہاوہ ‘مونال ریسٹورنٹ’ کو گرانے کا سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عدالت نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے دائر اپیلیں منظور کرتے ہوئے اس کیس سے متعلق حکم امتناعی بھی ختم کر دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ریسٹورنٹ کی زمین کی ملکیت کا فیصلہ ٹرائل کورٹس کریں گی اور وہ اس معاملے میں سابقہ عدالتی آبزرویشنز یا ریمارکس سے بالکل متاثر ہوئے بغیر آزادانہ طور پر کام کریں۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے ٹرائل کورٹس کو ان مقدمات کے جلد از جلد فیصلے کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ انتظامی معاملات کا فیصلہ ریگولیٹری اداروں کو کرنے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے 21 اگست 2024 کے فیصلے پر سخت ریمارکس دیے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں قانون کے بہت سے بنیادی نکات کو مدنظر ہی نہیں رکھا گیا اور کیس دائر کرنے یا اس پر نظرثانی کی اپیل لانے پر بھی عدالت نے بلاوجہ غصے کا اظہار کیا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہم نے کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرنا بلکہ قانون کے مطابق چلنا ہے۔ فیصلے میں ایسی باتیں لکھ دی گئیں جن کا مقدمے کے ریکارڈ میں کوئی ذکر تک نہیں تھا، ہم فیصلے میں ‘الف لیلیٰ کی کہانی’ نہیں لکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت کچھ عدالتی کارروائی کے دائرے سے باہر کا لکھا گیا۔

دورانِ سماعت مونال ریسٹورنٹ کے وکیل احسن بھون نے جب دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کیس کا بہت اچھا مطالعہ کیا ہے، تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں، جو سماعت کے دوران سامنے آیا ہے وہی قانون کے مطابق حکم دیا جائے گا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ریگولیٹری ادارے تمام فریقین کو شنوائی کا مکمل اور شفاف حق دینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کے بعد مونال انتظامیہ نے ستمبر 2024 میں سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام کے ساتھ ریسٹورنٹ مستقل بند کر دیا تھا اور اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ نے اس کا قبضہ حاصل کر لیا تھا، تاہم اب آئینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد کیس ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔