مجھے قتل کیا تو ایران پر ایسی بمباری ہو گی جو تاریخ میں نہ دیکھی ہو، ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی فوج کو ہنگامی ہدایات
واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی تصادم اور تہران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ و تدفین کے موقع پر سامنے آنے والے شدید مہم جوئی پر مبنی نعروں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت اور سنسنی خیز ردعمل سامنے آیا ہے۔
امریکی اخبار ‘نیویارک پوسٹ’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران کئی برسوں سے انہیں نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور وہ کافی عرصے سے تہران کی ہٹ لسٹ پر پہلے نمبر پر موجود ہیں۔
ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں بتایا کہ اگر ایران نے انہیں قتل کرنے کی کوئی بھی کوشش کی، تو وہ پہلے ہی امریکی اعلیٰ حکام اور اپنی فوج کو سخت ترین ردعمل دینے کی خفیہ ہدایات جاری کر چکے ہیں، جس کے تحت ایران پر ایسی ہولناک بمباری کی جائے گی جو اس نے اپنی تاریخ میں کبھی نہ دیکھی ہو۔
حال ہی میں تہران میں ہونے والے جنازے کے اجتماعات میں ٹرمپ کو قتل کرنے کے نعرے لگائے گئے تھے اور ایسے بینرز بھی آویزاں کیے گئے تھے جن میں سابق کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے ایک اور حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں نیٹو کانفرنس کے خاتمے پر واپسی کے لیے سیکرٹ سروس کے اصرار پر شدید سیکیورٹی خدشات کے باعث قطر سے تحفے میں ملے جدید طیارے کی بجائے پرانے ‘ایئرفورس ون’ میں سفر کیا۔
امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ کے مطابق، ایران کی جانب سے ممکنہ فضائی حملے یا ٹریکنگ کے خطرے کے پیشِ نظر اس پرواز کے دوران کھڑکیوں کے شیڈز اوپر کرنے کی اجازت نہیں تھی اور طیارے نے دورانِ پرواز بحیرہ اسود کو پار کرنے تک اپنا لوکیشن ٹریکر بھی مکمل طور پر بند رکھا تھا۔
جب خود صدر ٹرمپ سے طیارے کی اس اچانک تبدیلی اور سیکیورٹی اقدامات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگرچہ وہ اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں جنہیں ایران ختم کرنا چاہتا ہے، لیکن طیارے کی تبدیلی کا براہِ راست سیکیورٹی خدشات سے تعلق نہیں۔
انہوں نے انٹرویو لینے والے سے ہنستے ہوئے کہا، ‘مجھے امید ہے کہ اگر میں نہ رہا تو آپ مجھے یاد کریں گے’۔
وائٹ ہاؤس اور ایرانی حکومت کی جانب سے فی الحال ان بیانات پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا، تاہم خطے کی موجودہ صورتحال نے ان سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

