کرک: خیبرپختونخوا کے اضلاع کرک اور کوہاٹ کی پولیس نے ایک مشترکہ اور انتہائی کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کمانڈر زاہد گروپ کے 4 خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
ڈی پی او کرک عمران چترالی کے مطابق، یہ کارروائی کرک اور کوہاٹ کے سرحدی علاقے خٹک ڈیم میں کی گئی۔
آپریشن کے دوران وہاں چھپے شرپسندوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس فورس نے حکمتِ عملی کے تحت مؤثر جوابی کارروائی کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔
ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق جس گروپ سے ہے، وہ طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔
یہ گروہ سال 2025 میں ایس ایچ او تھانہ بانڈہ عمر نواز (ضلع کرک) اور انسپکٹر طاہر نواز (ضلع کوہاٹ) جبکہ سال 2026 میں ڈی ایس پی اسد محمود، سب انسپکٹر انار گل اور دیگر پولیس افسران و جوانوں کی شہادت کے سنگین واقعات میں براہِ راست ملوث تھا۔
ڈی پی او کرک کے مطابق، ہلاک شدگان کی شناخت اور ان کے مجرمانہ ریکارڈ کے حوالے سے مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او کرک اور ایس پی صدر کوہاٹ احسان شاہ بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے میں فرار ہونے والے ممکنہ ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کرک کے علاقے میں ہونے والے اس کامیاب آپریشن پر خیبرپختونخوا پولیس کو زبردست الفاظ میں ستائش کا نشانہ بنایا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس نے ایک بار پھر بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ کامیاب انٹیلی جنس آپریشن پر پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے اور ہماری فورسز ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ پرعزم ہیں۔

