طالبان وزیر زراعت مولوی عطا اللہ عمری مودی سرکار کی محبت میں نہال؛ بولے ‘بھارت آکر لگا اپنے ہی ملک میں ہوں، ہمارا ڈی این اے ایک ہے’
نئی دہلی: بھارت اور افغان طالبان کے درمیان پسِ پردہ گٹھ جوڑ اب کھل کر سامنے آنے لگا ہے، جس پر خود افغان وزیر نے مہر ثبت کر دی ہے۔
افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیر زراعت، آبپاشی و لائیو اسٹاک مولوی عطاء اللہ عمری ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اپنے پہلے سرکاری دورے پر بھارت پہنچے ہیں جہاں انہوں نے مودی سرکار کی محبت میں سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ کر متنازع بیانات داغ دیے ہیں۔
نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان وزیر مولوی عطا اللہ عمری نے بھارتی حکومت اور وزیر خارجہ کی جانب سے ملنے والے پرتپاک استقبال پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پہنچنے کے پہلے دن سے ہی انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے ہی لوگوں اور اپنے ہی ملک میں موجود ہوں۔
طالبان وزیر نے مودی سرکار کو خوش کرنے اور مالی و تجارتی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے صحافیوں کے سامنے یہ عجیب دعویٰ بھی کر دیا کہ "ہمارا (بھارت اور طالبان کا) ڈی این اے بھی ایک ہے”۔ اس دوران پریس کانفرنس میں موجود بھارتی حکام نہ صرف زیرِ لب مسکراتے رہے بلکہ تائید میں گردن بھی ہلاتے رہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان وزیر شاید اس قسم کی خوشامدی گفتگو سے بھارت سے مالی و سفارتی فوائد حاصل کرنے کا گمان کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نئی دہلی نے تاحال طالبان حکومت کو باقاعدہ تسلیم نہیں کیا ہے۔
اگرچہ حالیہ برسوں میں دونوں کے درمیان سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے اور بھارت نے کابل میں اپنا تکنیکی مشن بھی دوبارہ فعال کیا ہے، مگر وہ کابل انتظامیہ کو تسلیم کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔
دوسری جانب، بھارت اور طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی ان قربتوں پر خطے کے دیگر ممالک نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ افغان سرزمین مسلسل ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
ہمسایہ ممالک دہشت گردوں کی پشت پناہی اور انہیں پناہ گاہیں فراہم کرنے پر طالبان حکومت سے متعدد بار شدید احتجاج ریکارڈ کرا چکے ہیں اور انہیں افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ یاد دلا چکے ہیں۔
مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی سرکار کی طرح طالبان حکومت میں بھی اقلیتوں اور خواتین کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، جو دونوں حکومتوں کی ذہنیت کی یکسانیت کو ظاہر کرتی ہے۔

