واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ دو روز سے جاری شدید عسکری حملوں اور کشیدگی کے بعد خطے میں امن کے لیے ایک بڑی اور مثبت سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے، جس کے ممکنہ طور پر سوئٹزرلینڈ میں ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین حالیہ فضائی و عسکری تصادم کو روکنے اور تناؤ میں کمی لانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں انتہائی تیز ہو گئی ہیں، جس کے مثبت نتیجے کے طور پر دو روز تک جاری رہنے والے ہولناک حملوں کا سلسلہ بھی فی الحال مکمل طور پر تھم گیا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز قطر، پاکستان، مصر اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام نے امریکی اور ایرانی حکام سے ہنگامی ٹیلیفونک رابطے کیے۔
ان رابطوں کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے شدید تناؤ کو کم کرنا اور انہیں دوبارہ سفارت کاری کی طرف راغب کرنا تھا۔ ان چاروں دوست ممالک کے متحرک ہونے سے خطے پر چھائے جنگ کے بادل چھٹنے لگے ہیں۔
ثالثی کے اس پیچیدہ عمل میں شامل معتبر سفارتی ذرائع کے مطابق، مختلف ممالک کی ان وسیع سفارتی کوششوں کا فوری مقصد امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی حتمی تاریخ اور ایجنڈا طے کرنا ہے، تاکہ اس سنگین تنازع کا مستقل حل بندوق کی بجائے بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ پسِ پردہ سفارتی کوششیں اسی طرح کامیاب رہیں، تو دونوں ممالک کے اعلیٰ مذاکرات کاروں اور تکنیکی ماہرین کا اگلا مرحلہ آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کی میزبانی میں شروع ہو جائے گا، جسے خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
