وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات، پاکستان کے عالمی امن کے لیے طویل المدتی تعاون کی تعریف

نیویارک: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ عالمی سمٹ کے موقع پر یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ایک اہم اور تفصیلی ملاقات کی، جس میں علاقائی صورتحال، مغربی ایشیا کے تنازعات اور مختلف بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران مغربی ایشیا میں جاری بحرانوں اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی و ثالثی کوششوں پر خصوصی گفتگو ہوئی۔

محسن نقوی نے اقوامِ متحدہ کے قیامِ امن مشنز (Peacekeeping Missions) میں پاکستان کی لازوال خدمات اور قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ علاقائی امن و استحکام اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اعلیٰ ترین ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، اور اس ضمن میں پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم شہباز شریف نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ امن مشنز کی سو فیصد کامیابی کے لیے انہیں حقیقت پسندانہ مینڈیٹ اور مطلوبہ وسائل کی فراہمی یقینی بنانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی امن اور سلامتی کے قیام کے لیے پاکستان کے طویل المدتی تعاون کی تعریف کی اور زبردست الفاظ میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

نیویارک ہیڈکوارٹر میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی چین کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ و سربراہ اسپیشل سروس بیورو لنگ ژیفینگ سے بھی ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزراء نے داخلی سلامتی، بارڈر مینجمنٹ، غیر قانونی امیگریشن اور انسدادِ منشیات کے حوالے سے باہمی معاونت کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی اور فنڈنگ میں ملوث ممالک کے خلاف دنیا کو متحد ہونا ہو گا۔ انہوں نے چینی وفد کو بتایا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی فول پروف حفاظت کے لیے ایک خصوصی ‘اسپیشل پروٹیکشن پولیس فورس’ قائم کی گئی ہے۔

چینی وزیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے ویزا اور امیگریشن کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے سری لنکن ہم منصب آنند وجے پالا سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان انسدادِ منشیات، پولیس ٹریننگ اور جعلی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے جرائم پیشہ افراد کے نیٹ ورکس کی روک تھام کے لیے مؤثر روابط قائم کرنے پر اتفاق ہوا۔

دونوں وزراء نے منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر تبادلہ خیال کیا اور وزارتِ داخلہ کی سطح پر باقاعدہ ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، جبکہ سری لنکا نے پاکستان کے شہریوں کے لیے ویزا فیس ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اس سے قبل، نیویارک سمٹ سے اپنے خطاب میں وفاقی وزیرِ داخلہ نے عالمی برادری کو پیغام دیا کہ دورِ حاضر کے پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز اور بین الاقوامی جرائم سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کو اپنے باہمی اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہو گا، کیونکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جدید پیشہ ورانہ تربیت کے بغیر عوام کے جان و مال کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔