امریکا ایران کشیدگی؛ پاکستان اور قطر کی دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم کوششیں
اسلام آباد: امریکی خبر رساں ادارے ‘سی این این’ اور ترک ایجنسی ‘انادولو’ نے خطے کے مروجہ سفارتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور قطر ایک بار پھر امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کو روکنے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔
دونوں ممالک واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔
اس سے قبل سوئٹزرلینڈ اور دوحہ میں ہونے والے کامیاب مذاکراتی ادوار کے پیچھے بھی پاکستان اور قطر ہی بنیادی ثالث تھے، جس کے نتیجے میں جون کے وسط میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک تاریخی عبوری مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے تھے، جبکہ عمان نے بھی اس عمل میں معاونت کی تھی۔
پاکستانی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت خطے میں جو عسکری تصادم ہو رہا ہے اس کی توقع نہیں تھی، تاہم پاکستان پرامید ہے کہ موجودہ صورتحال ایک مکمل اور ہمہ گیر جنگ میں تبدیل نہیں ہو گی، کیونکہ دونوں فریق اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ مکمل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ان تازہ جھڑپوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ ختم کرنے کے اعلان سے قبل، امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کو اگلے ایک سے دو ہفتوں میں ٹیکنیکل نوعیت کے مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں ملنا تھا، لیکن اب فضائی حملوں کے بعد صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔
اس وقت ثالثوں (پاکستان اور قطر) کی اولین ترجیح دونوں فریقین کے درمیان فوری طور پر کشیدگی کو روکنا ہے، اور اسلام آباد کو اب بھی توقع ہے کہ حالات سنبھلتے ہی وہ مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرے گا۔
ذرائع نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی عسکری کارروائیاں بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ بنی ہیں، کیونکہ ایران کا مؤقف تھا کہ وہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد ہی آبنائے ہرمز کو بحال کرے گا، جبکہ واشنگٹن اس شرط کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا۔

