مشہد: ایران کے شہید رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو تہران، قم اور عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں تاریخی زیارات اور تعزیتی جلوسوں کے بعد ابائی شہر مشہد لایا گیا، جہاں لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں انہیں پورے مذہبی و سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔
ایرانی میڈیا اور گورنر آفس کے دعوے کے مطابق، شہید قائد کو آخری الوداع کہنے کے لیے مشہد کی سڑکوں پر انسانوں کا سمندر امڈ آیا اور جلوسِ جنازہ میں 70 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔
نمازِ جنازہ امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں ادا کی گئی جس کی امامت شہید کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای نے کی، جبکہ ان کے دیگر بھائی بھی پہلی صف میں موجود تھے۔
اس سے قبل عسکری و فضائیہ کے اعلیٰ حکام کی نگرانی میں آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کو عراق سے مشہد منتقل کیا گیا، جہاں ایرانی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے جسدِ خاکی لانے والے طیارے کو فضائی نگرانی اور حفاظتی حصار فراہم کرتے ہوئے مشہد ایئرپورٹ پہنچایا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی زندگی میں وصیت کی تھی کہ انہیں حضرت امام علی رضاؑ کے پہلو میں جگہ دی جائے، چنانچہ ان کے ورثا کی تجویز پر انہیں مزار کے احاطے میں ہی دفن کیا گیا۔
جلوس میں شہید رہبرِ اعلیٰ کے ساتھ ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد اور ڈیڑھ سالہ نواسی زہرا محمدی کے تابوت بھی لائے گئے جو 28 فروری کو تہران پر امریکی و اسرائیلی میزائل حملوں میں شہید ہوئے تھے۔
تجہیز و تکفین کی یہ رسومات 3 جولائی سے شروع ہوئی تھیں جن میں 45 سے زائد ممالک کے سیاسی رہنماؤں اور نمائندوں سمیت 90 سے زائد ممالک کے جید علماء، مذہبی شخصیات اور سائنس دانوں نے شرکت کی۔
جلوس کے دوران مشہد کی فضا درود و سلام، آہ و بکا اور سینہ کوبی سے گونجتی رہی جبکہ لاکھوں مظاہرین نے سرخ اور سیاہ پرچم تھامے امریکا اور صدر ٹرمپ سے قتل کا بدلہ لینے اور ‘امریکا و اسرائیل مردہ باد’ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔
تدفین سے چند گھنٹے قبل امریکا کی جانب سے ایران میں ریلوے پلوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی۔
ایرانی حکومت نے ان تازہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں تجہیز و تکفین کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا، تاہم عوام ان حملوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں سیاہ لباس پہنے مشہد پہنچے۔
اس نازک موقع پر مشہد میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، ایران کی فضائی حدود کے بعض حصوں پر عارضی پابندیاں عائد ہیں اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی بڑی نفری تعینات ہے۔
ملک بھر میں سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعزیتی جلوس سیاسی و مذہبی قیادت سے عوامی وابستگی کا تاریخی ثبوت ہیں۔

