آخری فسادی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی؛ سیاسی و عسکری قیادت کا دہشت گردی کے خلاف ‘زیرو ٹالرینس’ پالیسی پر کاربند رہنے کا عزم

کوئٹہ: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے ایک روزہ اہم دورہ کوئٹہ کے دوران نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی اپیکس کمیٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے مشرقی ہمسایہ ملک (بھارت) کا بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے فتنے میں بھرپور اور واضح کردار ہے۔

وزیراعظم نے براہِ راست الزام عائد کیا کہ بھارت دہشت گردوں کو بھاری فنڈنگ، جدید اسلحہ اور دیگر تمام ممنوعہ سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دہشت گرد پڑوسی ملک افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں معصوم شہریوں اور فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ کچھ دیگر خارجی ہاتھ بھی اس گھناؤنی سازش میں ملوث ہیں۔

اس اہم ترین اجلاس میں عسکری قیادت سمیت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے شرکت کی، جہاں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اپیکس کمیٹی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ بلوچستان میں گزشتہ چار دنوں کے دوران دہشت گردی کے انتہائی سنگین واقعات رونما ہوئے جن کے نتیجے میں پولیس، پاک فوج کے جوانوں اور عام شہریوں سمیت 42 قیمتی جانیں شہید ہوئیں۔

تاہم، سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف آپریشنز میں 54 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں عزم دہرایا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ایک پیج پر متحد ہے اور ملک سے آخری فسادی کے خاتمے تک یہ جنگ بلا تعطل جاری رہے گی۔

ریاست ان عناصر کے تمام مذموم عزائم کو کچلنے کے لیے اپنے تمام مروجہ ریاستی وسائل بروئے کار لائے گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو حاصل ہونے والی حالیہ سفارتی اور معاشی کامیابیاں دشمن قوتوں کو ہضم نہیں ہو رہیں، اسی لیے وہ پاکستان کے ترقیاتی سفر اور سی پیک جیسے منصوبوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنا کر بلوچستان کو جلد ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے مسلح افواج اور پولیس کے افسران و جوانوں کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہادر سپاہیوں نے اپنے خون سے امن کی شمع روشن کی ہے اور پوری قوم ان کے سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

وفاقی حکومت نے ہر قسم کے عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف ‘زیرو ٹالرینس’ کی پالیسی اپنائی ہے اور وفاق، صوبائی حکومت کو رٹ قائم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا۔

دوسری جانب، نائب وزیراعظم نے بھی عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والی دہشت گرد تنظیمیں خطے کے لیے بڑا خطرہ ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔