ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ کا اعلان؛ ایران کے ساتھ معاہدہ ختم ہوچکا

انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، نیٹو اور امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے انتہائی سخت اور چونکا دینے والے بیانات دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کیا گیا عبوری معاہدہ اور مفاہمتی یادداشت (MoU) اب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں جاری نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ہمراہ پریس کانفرنسز اور میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایرانیوں سے مزید کوئی ڈیل نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی اپنا وقت ضائع کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے ایران کے معاملے کو کینسر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اس کینسر سے نجات پانا ہو گی، کینسر کو ابتدا ہی میں کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے اور ایران کے لیے میری یہی رائے ہے”۔

امریکی صدر کے اس جارحانہ اعلان کے فوراً بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ رات امریکی افواج نے ایران کے انتہائی خطرناک عناصر، ان کی نیوی اور عسکری قیادت کو بھرپور طاقت کے ساتھ نشانہ بنایا ہے اور وہ اب ممکنہ طور پر آج رات پھر ایران پر انتہائی شدید حملے کریں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی پرانی عسکری قیادت ختم ہو چکی ہے اور اب وہاں نئے لوگ موجود ہیں۔

ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوباما پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اوباما کا ایران کے ساتھ معاہدہ بدترین تھا جس کے تحت ایران کو جہازوں میں بھر کر اربوں ڈالر دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 سال سے لوگوں کو قتل کر رہا ہے، انہوں نے جھوٹ بولا اور دھوکا دیا، لیکن ہمارا مقصد اب واضح ہے کہ ہم ایران کو ہر قیمت پر غیر جوہری بنا کر رہیں گے۔

ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ترکیہ اگر چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جاری جنگ میں شامل ہو سکتا تھا لیکن انہوں نے خود ترکیہ کو اس جنگ کا حصہ بننے سے روکا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دوران چین نے امریکا کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹ نے صدر ٹرمپ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر امریکی صدر کے ساتھ کھڑے ہیں اور گرین لینڈ سے متعلق معاہدے پر مرحلہ وار عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے ان بیانات سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔