K2 ایئرویز لاپتا کارگو طیارے کا ملبہ سمندر سے مل گیا؛ پائلٹ رضوان ادریس سمیت عملے کے 5 ارکان تاحال لاپتا، تلاش جاری

کراچی: شارجہ سے کراچی آتے ہوئے منگل کی شب خلیج میں لاپتا ہونے والے نجی فضائی کمپنی ‘K2 ایئرویز’ کے کارگو بوئنگ 737 طیارے کا ملبہ سمندر سے مل گیا ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق، پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) نے جون اور جولائی کی بپھری ہوئی لہروں اور شدید سمندری چیلنجز کے باوجود 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے انتہائی پیچیدہ آپریشن کے بعد طیارے کا ملبہ بلوچستان کے ساحلی مقام اورماڑہ سے 53 ناٹیکل میل جنوب میں تلاش کر لیا ہے۔

تاہم، طیارے کا اہم ترین حصہ بلیک باکس (فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر) اور کاک پٹ وائس ریکارڈر تاحال نہیں مل سکا ہے، جبکہ کاک پٹ میں سوار عملے کے 5 ارکان بشمول پائلٹ کپتان محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان، اور فلائٹ انجینئرز عارف صدیقی و محمد حامد اب بھی لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے فضائی اور بحری اثاثوں کا آپریشن تاحال تیز رفتاری سے جاری ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، جدید آلات سے لیس پاک بحریہ کے دو جنگی جہاز ‘پی این ایس ذوالفقار’ اور ‘پی این ایس حنین’ میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی تیز رفتار کشتیوں کے ہمراہ وسیع سمندری پٹی میں دن کے اجالے میں سرچ اینڈ ریسکیو کا دائرہ مزید بڑھا چکے ہیں۔

دوسری جانب، واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ‘بیورو آف سیفٹی انویسٹی گیشن’ کی ایک 11 رکنی ماہر ٹیم بدھ کے روز دوپہر کراچی پہنچ گئی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے ابتدائی طور پر K2 ایئرویز کے ہیڈ آفس میں موجود فنی ریکارڈز کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کے بیانات قلمبند کیے۔ کسی بھی ممکنہ چھیڑ چھاڑ سے بچنے اور انویسٹی گیشن کے لیے درکار شواہد کو سو فیصد محفوظ رکھنے کی بنیاد پر کراچی ایئرپورٹ پر نجی ایئر لائن کا دفتر باقاعدہ سیل کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی تحقیقاتی ذرائع سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، بدقسمت بوئنگ 737 طیارہ تقریباً 35 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا جب پائلٹ نے رات 9 بج کر 18 منٹ پر اچانک نیویگیشن سسٹم میں شدید تکنیکی خرابی رپورٹ کی۔

کنٹرول ٹاور کی جانب سے مروجہ ہیڈنگ برقرار رکھنے کی ہدایت کے باوجود طیارہ یکایک دائیں جانب مڑا اور محض 3 منٹ کے اندر 15 ہزار فٹ فی منٹ کی انتہائی خطرناک رفتار سے نیچے آتے ہوئے 11 ہزار فٹ پر پہنچ گیا۔

اس ہنگامی تبدیلی کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرولرز (ATC) کی جانب سے کاک پٹ سے متعدد صوتی رابطوں کی کوششیں کی گئیں لیکن وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، اور رات 9 بج کر 21 منٹ پر طیارہ ریڈار اسکرین سے مستقل غائب ہو گیا۔

واضح رہے کہ یہ طیارہ شارجہ میں 5 روز سے موجود اسی کمپنی کے ایک دوسرے خراب طیارے کی مرمت کے لیے فاضل پرزہ جات پہنچانے پیر کو گیا تھا اور منگل کی رات فیری فلائٹ (خالی پرواز) کے طور پر کراچی واپس لوٹ رہا تھا کہ اس ہولناک حادثے کا شکار ہو گیا۔ تمام ادارے عملے کے ارکان کی تلاش کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔