فتنہ الخوارج کا کوئی اعتبار نہیں، کل کو چوری ڈکیتی کا کریڈٹ بھی لے لیں گے؛ فتنہ الخوارج کا گروپ کیپٹن عاصم طارق کو شہید کرنے کے دعوے پر خواجہ آصف کا سخت ردعمل

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت کے واقعے پر فتنہ الخوارج (طالبان) کی جانب سے پیش کیے جانے والے دعووں اور جھوٹے پروپیگنڈے پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے اوچھے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک اہم بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے فتنہ الخوارج کے دعوے کو یکسر بے بنیاد اور کھوکھلی تشہیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں گروپ کیپٹن عاصم طارق کے ایک بہیمانہ اور     قتل کی ذمہ داری طالبان قبول کر رہے ہیں، جو ان کی حماقت کو ظاہر کرتا ہے۔

خواجہ آصف نے واضح الفاظ میں لکھا کہ "فتنہ الخوارج کا کوئی اعتبار نہیں، یہ اتنے غیر سنجیدہ ہیں کہ کل کو شاید پاکستان میں ہونے والی چوری، ڈکیتی اور عام اسٹریٹ کرائمز کا کریڈٹ بھی لینا شروع کر دیں”۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ان دہشت گردوں کا مقصد صرف اور صرف سستی شہرت اور کریڈٹ لینا ہے، جبکہ حقیقت، اخلاقیات اور ذمہ داری سے ان کا دور دور تک کوئی غرض اور تعلق نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کے روز نائنتھ ایونیو اسلام آباد پر ائیر فورس کے بہادر افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق ایک دفتری خاتون کو ایک اوباش شخص کی دست درازی سے بچاتے ہوئے فائرنگ کا شکار ہو کر جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔

واقعے کی تفصیلات کے مطابق، گروپ کیپٹن عاصم نے موٹر سائیکل سوار شخص کو زبردستی ایک خاتون کا ہاتھ کھینچتے دیکھا تو وہ اپنی گاڑی روک کر فوری مدد کے لیے پہنچے۔ اس دوران مبینہ ملزم نے گروپ کیپٹن سے بدکلامی کی اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے جبکہ ملزم فرار ہو گیا۔

متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق، ملزم ان کا دفتری ساتھی تھا جو زبردستی انہیں کہیں اور لے جانا چاہتا تھا، اور عاصم طارق نے بروقت مداخلت کر کے ان کی جان بچائی۔

شہادت کے اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پولیس نے تندہی سے کارروائی کرتے ہوئے گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے اصل قاتل کو واقعے کے محض 9 گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا ہے، جس سے دہشت گرد تنظیم کا دعویٰ خود بخود جھوٹا ثابت ہو گیا۔

بعد ازاں، اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے اس ہائی پروفائل قتل کیس میں گرفتار ملزم کو باقاعدہ شناختی پریڈ کے عمل کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید نے سوگواران میں ایک بیوہ، بیٹی اور بیٹا چھوڑا ہے، اور پوری قوم ان کی اس شجاعت اور ایثار کو سلام پیش کر رہی ہے۔