گلگت: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن پاکستان اپنے قومی مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا اور اگر دریائے سندھ کے پانی کے تحفظ کے لیے بھارت سے جنگ بھی لڑنی پڑی تو پیپلز پارٹی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
یہ بات انہوں نے گلگت بلتستان کے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کی تقریبِ حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے اور دریائے سندھ کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے وزیرِ اعلیٰ امجد حسین کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے مقامی نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو گلگت بلتستان میں یہ احساس نہیں ہونے دیں گے کہ وہ حکومت میں نہیں بلکہ اپوزیشن میں ہیں، کیونکہ ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے پڑوسی ملک کی خارجہ اور تزویراتی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو پاکستان سے ملنے والی شکست ہضم نہیں ہو رہی، اسی لیے انہوں نے اب اسرائیلی ماڈل اپناتے ہوئے ہائبرڈ اور پراکسی جنگ شروع کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جس طرح جنگ میں ناکامی کے بعد ایران میں اندرونی خلفشار پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی، بالکل اسی طرح بھارت بھی اب افغانستان کی زمین استعمال کر کے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دراندازی کر رہا ہے اور ایسی ہی سازش اب آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے پوری قوت سے ناکام بنایا جائے گا۔
خطاب کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی نے داخلی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاست بدقسمتی سے گالی، لڑائی اور دشمنی کا دوسرا نام بن چکی ہے، لیکن پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں ایک ایسا مفاہمانہ ماحول بنانا چاہتی ہے جہاں جیتنے اور ہارنے والے مل کر عوام کی خدمت کریں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ خطے میں موسمِ سرما کے آغاز سے پہلے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا اور تمام بھرتیاں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی۔ انہوں نے بھٹو خاندان اور گلگت بلتستان کے دیرینہ رشتے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے یہاں شخصی راج کا خاتمہ کر کے عوام کو زمینوں کا حق دیا تھا اور آصف علی زرداری نے اس خطے کو شناخت دی۔
بلاول بھٹو نے عزم ظاہر کیا کہ وہ وہ دن دیکھنا چاہتے ہیں جب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے منتخب نمائندے پاکستان کی قومی اسمبلی میں بیٹھ کر وفاق کا حصہ بنیں، چاہے انہیں رکن کہا جائے یا سفیر۔
انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے مقامی فارمنگ اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کا عزم بھی دہرایا۔

