حکومتی ڈیڈ لائن ختم؛ راولپنڈی میں افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا آغاز، 50 سے زائد گرفتار

راولپنڈی: حکومتِ پاکستان کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں اور تارکینِ وطن کے لیے دی گئی مروجہ ڈیڈ لائن کے باضابطہ اختتام کے بعد، راولپنڈی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے افغان شہریوں کے خلاف اپنے مروجہ کریک ڈاؤن اور کارروائیوں کو انتہائی تیز کر دیا ہے۔

پولیس ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ مستند معلومات کے مطابق، اب مروجہ دستاویز یعنی ‘افغان سٹیزن کارڈ’ (ACC) کے حامل افراد کی گرفتاریاں بھی باقاعدہ طور پر شروع کر دی گئی ہیں، جس کے تحت راولپنڈی کے مختلف مروجہ علاقوں اور رہائشی بستیوں سے اب تک 50 سے زائد افغان شہریوں کو حراست میں لے کر خصوصی طور پر قائم کردہ ہولڈنگ کیمپوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مروجہ مہم کے اگلے مرحلے میں ان تمام کارڈ ہولڈر افراد اور ان کے خاندانوں کو براہِ راست ہولڈنگ کیمپوں سے افغانستان واپس بھجوانے کے مروجہ انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، حکومتی پالیسی کے تحت صرف بنا دستاویزات والے ہی نہیں، بلکہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے خاندانوں کو بھی بتدریج تحویل میں لے کر مروجہ پروٹوکول کے تحت ہولڈنگ کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا جہاں سے ان کی وطن واپسی کو مروجہ طریقے سے یقینی بنایا جا رہا ہے۔

راولپنڈی پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں اور گنجان آباد علاقوں میں چیکنگ سخت کر دی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے اور حکومتی احکامات پر من و عن عمل درآمد کرایا جا سکے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ملکی سلامتی اور مروجہ قوانین کے نفاذ کے وسیع تر تناظر میں کی جا رہی ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔