ریاست عوامی مفاد میں زمین لے سکتی ہے، معاوضے کا اصول سونے کے بدلے سونا ہونا چاہیے، تانبہ نہیں، سپریم کورٹ
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے جائیداد کے زبردستی حصول اور اس کے منصفانہ معاوضے کے تعین کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور مروجہ تاریخی فیصلہ جاری کیا ہے۔
صوابی میں نہر منصوبے کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق کیس میں عدالتِ عظمیٰ نے خیبر پختونخوا حکومت کے تمام تر اعتراضات اور اپیلیں یکسر مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ اور ریفرنس کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس محمد علی مظہر کا تحریر کردہ یہ اہم فیصلہ قرار دیتا ہے کہ اگرچہ عوامی مفاد اور مفادِ عامہ کی خاطر شہریوں کی مرضی کے بغیر بھی جائیداد زبردستی حاصل کرنا ریاست کا قانونی اختیار ہے، لیکن حکومت کا یہ طاقتور اختیار مطلق (Absolute) نہیں ہے، بلکہ اسے شہریوں کے بنیادی حقوق کے ساتھ متوازن رکھنے کے لیے آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 23 اور 24 مکمل طور پر ریگولیٹ کرتا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے مروجہ فیصلے میں اراضی کے معاوضے کا ایک سنہرا اصول وضع کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں لکھا ہے کہ "معاوضے کا اصول سونے کے بدلے سونا ہونا چاہیے، تانبہ نہیں”۔
فیصلے کے مطابق، جائیداد کے مالک کو کسی بھی قسم کے مالی بحران یا بدتر معاشی حالت میں نہیں چھوڑا جا سکتا، اور متاثرہ مالک کو ایسا معاوضہ ملنا چاہیے جو مفادِ عامہ کی خاطر اس پر مسلط کیے گئے معاشی نقصان کا مکمل نعم البدل ہو۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صرف سرکاری ریٹ کی بنیاد پر زمین کا معاوضہ مقرر کرنا غیر منصفانہ ہے، بلکہ معاوضے کے تعین میں زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو (Market Value)، اس کا ممکنہ استعمال اور مستقبل کی تجارتی یا رہائشی اہمیت کو مدنظر رکھنا قانونی طور پر ضروری ہے۔
تحریری فیصلے میں آئین کے مروجہ آرٹیکلز کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 23 کے تحت ہر پاکستانی شہری کو ملک کے کسی بھی حصے میں جائیداد حاصل کرنے، رکھنے، فروخت یا منتقل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے، جبکہ آرٹیکل 24 یہ ضمانت دیتا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانون کے سوا اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ بطور آئینی محافظ، سپریم کورٹ کا کردار ہر شہری کو مناسب اور منصفانہ معاوضے کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ عدالت نے یہ پائیدار اصول بھی طے کیا کہ اگر اراضی کے حصول کے عمل میں حکومتی سطح پر تاخیر ہو، تو اس دوران قیمتوں میں ہونے والے مروجہ اضافے اور افراطِ زر (Inflation) کو بھی معاوضہ طے کرتے وقت لازمی شمار کیا جائے۔
یاد رہے کہ صوابی کے زمین مالکان نے سرکاری معاوضہ انتہائی کم ہونے پر ریفرنس کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے شواہد کی بنیاد پر معاوضہ بڑھایا تھا، اور اب سپریم کورٹ نے بھی صوبائی حکومت کی اپیلیں خارج کر کے عوامی حق میں فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

