تہران: ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور رواں برس فروری میں امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ان کے ساتھ شہید ہونے والے اہلِ خانہ کے چار ارکان کی مروجہ نمازِ جنازہ تہران کے تاریخی و گرینڈ ‘امام خمینی مصلیٰ کمپلیکس’ میں ادا کر دی گئی ہے۔
اس تاریخی اور رقت آمیز نمازِ جنازہ میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سربراہ احمد وحیدی اور قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی سمیت ملک کی اعلیٰ ترین سول و عسکری قیادت اور لاکھوں کی تعداد میں سوگواروں نے شرکت کی۔
مقتدر عالمِ دین آیت اللہ جعفر سبحانی نے شہیدِ رہبرِ انقلاب اور ان کی شہید صاحبزادی، بہو، داماد اور کمسن نواسی کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
جنازے کے موقع پر تہران کی سڑکوں پر سیاہ لباس پہنے لاکھوں سوگواروں کا سمندر امڈ آیا جنہوں نے ہاتھوں میں سرخ پرچم اٹھا رکھے تھے، جو ایران میں خون کا بدلہ اور انتقام کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ پوری فضا ‘امریکا مردہ باد’ اور ‘انتقام، انتقام’ کے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہی۔
جنازے میں شہید سپریم لیڈر کے تین بیٹوں مصطفیٰ خامنہ ای، میثم خامنہ ای اور مسعود خامنہ ای نے شرکت کی، تاہم ایران کے نومنتخب سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای شدید سیکیورٹی وجوہات اور خطرات کے باعث مروجہ پروٹوکول کے تحت منظرِ عام پر نہیں آئے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ہونے والے اس سانحے کے بعد مارچ میں ہی نئے رہبر کا انتخاب کر لیا گیا تھا، تاہم تدفین کے مراحل اب مکمل کیے جا رہے ہیں۔ ایران میں کل عام تعطیل اور 8 جولائی کو باقاعدہ یومِ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
طے شدہ شیڈول کے مطابق، تہران میں عوامی دیدار کے بعد پیر کو مرکزی جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد میت کو قم اور پھر عراقی شہروں نجف و کربلا لے جایا جائے گا۔ شہید سپریم لیڈر کی حتمی تدفین 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہدِ مقدس میں کی جائے گی۔
ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی خصوصی دعوت پر پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز) نے تہران پہنچ کر شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے اور تعزیتی مراحل میں شرکت کی۔
پاکستانی قیادت نے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، صدر مسعود پزشکیان اور برادر ایرانی عوام کے ساتھ اس عظیم قومی سانحے پر پاکستان کی جانب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور شہید رہنما کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر تعزیتی کتاب میں مروجہ سفارتی آداب کے مطابق مرحوم سپریم لیڈر کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے۔
نمازِ جنازہ میں دنیا کے 100 سے زائد ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے بھی شرکت کر کے ایرانی قیادت سے تعزیت کی۔

