گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے سفاک قاتل سعد عباسی کو فرار ہوتے ہوئے 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا گیا؛ آئی جی اسلام آباد کی پریس کانفرنس

اسلام آباد: وفاق دارالحکومت کے مروجہ امن و امان اور سیکیورٹی ہائی الرٹ کے درمیان اسلام آباد پولیس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاک فضائیہ (PAF) کے بہادر افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے سفاک قاتل محمد سعد عباسی کو واقعے کے محض 9 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا ہے۔

آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے پی آئی ڈی (PID) میں ڈی آئی جی آپریشنز جواد طارق کے ہمراہ ایک ہنگامی اور اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حاضر سروس گروپ کیپٹن کو دن دیہاڑے صبح 11 بج کر 21 منٹ پر فائرنگ کر کے شہید کرنے کا واقعہ پولیس کے لیے ایک انتہائی اہم اور بڑا چیلنج تھا، جس کے لیے فوری طور پر 11 خصوصی تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

پولیس نے جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ٹولز اور سیف سٹی کے 275 کیمروں کے ریکارڈ کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کرنے کے بعد ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ملزم کو تھانہ کھنہ کے علاقے سے اس وقت دھر لیا جب وہ شہر سے فرار ہونے کی تیاری مکمل کر چکا تھا۔

آئی جی اسلام آباد نے واقعے کی لرزہ خیز تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ملزم محمد سعد عباسی اور نمرہ نامی متاثرہ خاتون میلوڈی میں واقع ایک کیش اینڈ کیری اسٹور پر ساتھ کام کرتے تھے اور ملزم اس سے قبل بھی دو بار خاتون کو گھر سے پک کر چکا تھا۔

واقعے کے روز دونوں بائیک پر بالکل ایک فیملی کی طرح آئے لیکن شاہین چوک اور نائنتھ ایونیو کے قریب ملزم کے دماغ پر شیطانیت سوار ہو گئی اور وہ خاتون کو زبردستی کسی پارک یا دوسری جگہ لے جانا چاہتا تھا۔

خاتون نے جب اس حیوانیت اور نیت کو بھانپ کر مزاحمت کی اور اسٹور کے علاوہ کہیں بھی جانے سے انکار کیا تو ملزم نے بائیک روک کر اس کے ساتھ زبردستی شروع کر دی اور ہاتھ کھینچنے لگا۔

اسی دوران وہاں سے گزرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید نے خاتون کو شدید مشکل اور خطرے میں دیکھ کر حب الوطنی اور اعلیٰ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا اور گاڑی روک کر دونوں کے بیچ بچاؤ کروایا۔

ملزم سعد نے اس مداخلت پر طیش میں آکر پہلے یوٹرن لیا اور پھر پستول نکال کر گروپ کیپٹن عاصم پر فائر کر دیا، جس سے وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔

پولیس چیف نے بتایا کہ سفاک قاتل سعد عباسی کا بنیادی تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔ قتل کی لرزہ خیز واردات انجام دینے کے بعد ملزم نے فوری طور پر اپنا موبائل ڈیٹا بند کر دیا تاکہ پولیس اسے ٹریس نہ کر سکے اور وہ اسلام آباد سے فرار ہونے کے لیے ‘اسکائی ویز’ بس سروس کا باقاعدہ ٹکٹ بھی خرید چکا تھا، تاہم تمام 11 پولیس ٹیموں کے باہمی اشتراک اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اسے ٹکٹ سمیت دھر لیا گیا۔

آئی جی علی ناصر رضوی نے عزم ظاہر کیا کہ اس کیس میں قانون کے تمام سخت تقاضے پورے کیے جائیں گے اور ملزم کو عدالت سے عبرت ناک سزا دلوائی جائے گی۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اسلام آباد پولیس کے 69 شہداء کو بھی یاد کیا اور محکمہ کو مزید فعال بنانے کے لیے 9 ہزار نئی بھرتیوں، اے ایس آئیز کی تعیناتی اور پولیس کو مزید 90 جدید گاڑیاں فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔