معرکہ کارگل کے ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) کی 27 ویں برسی؛ وزیراعظم، آرمی چیف اور مسلح افواج کا شاندار خراجِ عقیدت

راولپنڈی: معرکہ کارگل (1999) کے مروجہ ہیرو اور ارضِ پاک کے مایہ ناز سپوت، کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) کی 27 ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

5 جولائی 1999 کو کارگل کے برفانی اور ناموافق محاذ پر دشمن کی عددی برتری اور نامساعد ترین جغرافیائی حالات کے باوجود شجاعت کی نئی تاریخ رقم کرنے والے اس قومی ہیرو کی قربانی کو پوری قوم اور دفاعی قیادت سلام پیش کرتی ہے۔

برسی کے موقع پر صوابی میں واقع شہید کے مزار پر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور اعلیٰ عسکری حکام نے پھولوں کی چادریں چڑھا کر شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

واضح رہے کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی بہادری کا اعتراف نہ صرف اپنوں نے کیا، بلکہ جنگ کے دوران ان کے سامنے لڑنے والے بھارتی فوج کے بریگیڈیئر بھی ان کے غیر معمولی جنگی جوہر اور دلیری کے معترف رہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کے مطابق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز)، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاکستان کی تمام مسلح افواج نے شہید کو ان کی لازوال خدمات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے اگلے مورچوں پر رہتے ہوئے بے خوف قیادت کی اور پاک فوج کی اعلیٰ ترین روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، جو آنے والی نسلوں کے لیے حب الوطنی کی ایک روشن علامت رہے گا۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی شہیدِ کارگل کی برسی پر اپنے خصوصی پیغامات جاری کیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ "کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی انتہائی ناموافق حالات میں غیر معمولی بہادری اور لازوال قربانی پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک درخشاں اور تابندہ باب ہے، جو مادرِ وطن سے وفاداری اور شجاعت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہماری آزادی، امن اور خود مختاری ہمارے شہداء کے مقدس خون کی مرہونِ منت ہے”۔

انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستانی قوم کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے کے خلاف اپنی مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان اعلیٰ نظریات و اقدار کی پاسداری جاری رکھی جائے گی جن کی خاطر ارضِ پاک کے ان بیٹوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔