بھارتی پروپیگنڈا مہم مودی کی گرتی ہوئی ساکھ بحال نہیں کر سکتی؛ پاکستان سے شکست کے بعد بھارتی وزیراعظم شدید دباؤ میں ہیں، خواجہ آصف
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارتی میڈیا اور ریاستی عناصر کی جانب سے اپنے خلاف چلائی جانے والی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم پر سخت مروجہ سفارتی اور سیاسی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹویٹر) پر جاری کردہ ایک تند و تیز بیان میں وزیر دفاع نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ان پر ذاتی حملے کرنے یا انہیں ذہنی طور پر غیر مستحکم قرار دینے سے نئی دہلی کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔
خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال پاکستان سے جنگ میں عبرت ناک شکست کھانے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کے باعث شدید ترین نفسیاتی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہیں اور اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف من گھڑت مہم جوئی کا سہارا لے رہے ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کی جانب سے ان کے خلاف چلائی جانے والی یہ مذموم مہم دراصل بھارتی وزیراعظم کے اپنے گرتے ہوئے گراف کو سنبھالا دینے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
انہوں نے بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خود بھارت کے اندر سے بھی مودی کو ملنے والے بین الاقوامی اعزازات پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
راہول گاندھی نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ مودی کو ملنے والے بیشتر عالمی ایوارڈز یا تو مصنوعی طور پر خود ہی تخلیق کروائے گئے ہیں یا پھر وہ ایک طے شدہ خود ساختہ تشہیری مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد مودی کو ایک عالمی مدبر کے طور پر پیش کرنا ہے، لیکن اس بھونڈی کوشش نے مودی کی ساکھ کو ایک عالمی شعبدہ باز کے طور پر ابھارا ہے۔
خواجہ محمد آصف نے برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مستند اور معتبر عالمی جریدے نے بھی مودی کے غیر ملکی دوروں کے دوران ملنے والے تمغوں کی شفافیت اور ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے بیرونِ ملک سے ایسی مصنوعی تعریف و توصیف اور من گھڑت اعزازات حاصل کرنے کی بے چین کوششیں دراصل بھارت کے اندر ان کی شدید طور پر کمزور اور کھوکھلی ہوتی ہوئی سیاسی پوزیشن کو سہارا دینے کا بہانہ ہیں۔
وزیر دفاع نے عزم ظاہر کیا کہ مودی کی بیرونِ ملک جھوٹی امیج بلڈنگ کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہوں گی اور پاکستان کے خلاف کیے جانے والے کسی بھی منفی پروپیگنڈے کا بھرپور اور دندان شکن جواب دیا جائے گا۔

