دورے سے 3 دن پہلے ایوارڈ کی تخلیق؛ برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ نے بھارتی وزیراعظم کی بناوٹی سفارت کاری کا کچا چٹھا کھول دیا

لندن: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بین الاقوامی دوروں کے دوران خصوصی طور پر تخلیق کیے گئے اعزازات حاصل کرنے کا مروجہ رجحان نہ صرف عالمی میڈیا بلکہ خود بھارت اور پڑوسی ممالک میں شدید تمسخر کا باعث بن گیا ہے۔

برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ نریندر مودی کو ملنے والے متعدد عالمی اعزازات ان کے دوروں سے محض چند روز قبل ہی متعارف کرائے جاتے ہیں اور مودی دنیا بھر میں ان کے پہلے اور واحد وصول کنندہ بنتے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین تنازع بحرِ ہند کے جزائر پر مشتمل افریقا کے سب سے چھوٹے ملک سیشلز (Seychelles) کے دورے پر سامنے آیا، جہاں مودی کو ان کی ماحولیاتی قیادت کے اعتراف میں ‘گارڈین آف دی بلیو ہورائزن’ کا اعلیٰ ترین اعزاز ٹرافی اور سرٹیفکیٹ کی صورت میں پیش کیا گیا۔

تاہم، مبصرین اور سافٹ ویئر تجزیے نے اس سرٹیفکیٹ کو بڑی حد تک مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ قرار دیا ہے، جس میں سیشلز کے اپنے ملک کی اسپیلنگ غلط لکھی گئی تھی اور ریپبلک کی املا بھی غلط تھی۔

شدید تنقید کے بعد سیشلز کی وزارتِ خارجہ نے ایک مضحکہ خیز وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرٹیفکیٹ محض ایک ابتدائی مسودہ تھا جو غلطی سے جاری ہو گیا، جبکہ اب باضابطہ درست ورژن جاری کر دیا گیا ہے۔

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس معاملے پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کانگریس رہنما سپریا شرینیت نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ مودی کو کوئی بھی ایوارڈ دے دو، وہ دوڑے چلے آتے ہیں اور اسی عجلت میں انہوں نے ملک کا سرکاری نام تک غلط لکھ دیا۔

دوسری طرف، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ہمیشہ کی طرح اسے مودی کی عالمی قیادت اور بھارت کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اثر و رسوخ کا اعتراف قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق مودی کے 12 سالہ دورِ حکومت میں شخصیت پر مبنی امیج بلڈنگ کے لیے یہ طریقہ کار مسلسل اپنایا جا رہا ہے۔

سیشلز سے قبل اسرائیل کے دورے کے دوران بھی اسرائیلی پارلیمنٹ نے جلدی میں ایک نیا اعزاز ‘میڈل آف دی کنیسٹ’ تشکیل دیا تھا جس کے واحد وصول کنندہ مودی ٹھہرے۔ اسی طرح وہ گزشتہ ایک سال میں ایتھوپیا کے ‘گریٹ آنر نیشان’ اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کے ‘آرڈر آف دی ریپبلک’ کے پہلے غیر ملکی سربراہ بنے۔

رپورٹ میں 2019 کے ‘فلپ کوٹلر پریزیڈنشل ایوارڈ’ کا بھی حوالہ دیا گیا، جو ہر سال کسی قومی رہنما کو دیا جانا تھا مگر مودی کو ملنے کے بعد آج تک کسی دوسرے عالمی رہنما کو نہیں دیا گیا۔

نریندر مودی کی اس سستی شہرت کی سیاست پر پاکستانی قیادت نے بھی گہرے طنز کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "جب غیر ملکی اعزازات کسی دورے سے چند دن پہلے ہی تخلیق کیے جائیں اور ان میں بنیادی املا کی غلطیاں ہوں، تو امیج منیجمنٹ کی یہ حکمت عملی خود ایک بین الاقوامی شرمندگی بن جاتی ہے۔ بی جے پی اندرون ملک نفرت پر مبنی پالیسیوں کو چھپانے کے لیے بناوٹی وقار کی سیاست کا سہارا لے رہی ہے”۔

دوسری جانب، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں ان ایوارڈز کو "من گھڑت اور شرمناک کہانی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سستے اے آئی ماڈلز سے بنے سرٹیفکیٹس حاصل کر کے خود کو مقبول رہنما ثابت کرنے کی اس بھونڈی کوشش نے پوری بھارتی قوم کو دنیا کے سامنے شرمندہ کر دیا ہے۔