آبنائے ہرمز میں غیر علاقائی طاقتوں کی فوجی مہم جوئی ناقابلِ قبول؛ ایران نے برطانیہ اور فرانس کو خبردار کردیا
تہران: ایران نے برطانیہ اور فرانس کی جانب سے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) میں بارودی سرنگیں ہٹانے کے بہانے اپنی فوجیں تعینات کرنے کے اعلانات پر شدید مروجہ سفارتی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے غیر علاقائی طاقتوں کو کسی بھی قسم کی فوجی نقل و حرکت سے سخت الفاظ میں خبردار کر دیا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے تہران میں جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز غیر علاقائی طاقتوں کے فوجی مظاہرے کا میدان نہیں ہے اور ایران ایک ذمہ دار طاقت اور اس اہم گزرگاہ کی سلامتی کا ضامن ہونے کے ناطے یہاں کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت کے خلاف تادیبی کارروائی کا مکمل حق رکھتا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس آبی گزرگاہ کی حفاظت اور سلامتی کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف ایران، عمان اور خلیجی ساحلی ریاستوں کی ہے، لہٰذا بحران پیدا کرنے والے ممالک اپنی کسی بھی مہم جوئی کے نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ فرانسیسی اور برطانوی افواج مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے آپریشن کے لیے اپنے فوجی اہلکار وہاں تعینات کر رہی ہیں۔
ایران نے اس بیرونی مداخلت کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران اور عمان کے علاوہ کسی بھی تیسرے ملک نے اس معاملے میں فوجی مداخلت کی تو اس سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید ابتر اور کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی رسد کے لیے دنیا کی اہم ترین اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں میں شمار کی جاتی ہے، جہاں سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی سپلائی کی ایک بہت بڑی مقدار گزرتی ہے۔
ایران نے امریکا اور اسرائیلی ممکنہ حملوں کے ردعمل میں گزشتہ چار ماہ سے اس آبی گزرگاہ کو تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل بند کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل و گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی اور عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی تھیں، جس نے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک بدترین طوفان برپا کر دیا تھا۔
تاہم، حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ایک کامیاب جنگ بندی معاہدے کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولا گیا تھا، جس سے عالمی سپلائی چین معمول پر آنا شروع ہوئی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی تھی، لیکن یورپی ممالک کی اس نئی فوجی پیش قدمی سے یہ بحالی ایک بار پھر خطرے میں پڑتی نظر آ رہی ہے۔

