امریکا کی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ‘حقِ دفاع’ کی کھل کر حمایت، افغان سرزمین کے استعمال پر اظہارِ تشویش

واشنگٹن: پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی اور سرحد پار سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں ریاستہائے متحدہ امریکہ نے فتنہ الخوارج اور دیگر تنظیموں کے خلاف پاکستان کے بین الاقوامی حقِ دفاع کی کھل کر اور غیرمشروط حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اپنے مروجہ سفارتی بیان میں واضح کیا ہے کہ "پاکستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کے ہاتھوں بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور انہوں نے اس جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں، لہٰذا امریکا دہشت گردی کے خطرات کے خلاف اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے پاکستان کی دفاعی کارروائیوں کی بھرپور تائید کرتا ہے”۔

عالمی مبصرین کے مطابق، واشنگٹن کا یہ اہم بیان بین الاقوامی قوانین کے تحت پاکستان کی جانب سے کی جانے والی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو عالمی سطح پر زبردست تقویت دیتا ہے۔

عالمی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سابق سربراہ جنرل مائیکل کوریلا انسدادِ دہشت گردی کے لیے پاکستان کے اقدامات کی کھل کر تعریف کر چکے ہیں اور اب امریکی محکمہ خارجہ کا تازہ ترین بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا پاکستان کی سرزمین کے خلاف افغان مٹی کے مسلسل استعمال پر تشویش کا شکار ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ برادر پڑوسی ملک کو بین الاقوامی سرحدوں کے احترام اور دہشت گردوں کو پناہ نہ دینے کا مشورہ دیا، تاہم افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی اور ڈرون حملوں کی ناکام کوششوں کے بعد، پاکستان کے حقِ دفاع کو ملنے والی عالمی پذیرائی نے طالبان رجیم کو شدید سفارتی ہزیمت سے دوچار کر دیا ہے۔

پاک فوج کے ذرائع کے مطابق، آپریشن ‘غضب للحق’ کے تحت ملک دشمن عناصر بالخصوص فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور ان کے مقامی و غیر ملکی سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا امتیاز جاری رکھی جائیں گی۔