لاہور ڈیفنس واقعہ؛ غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کیس میں اہم پیشرفت، مزید 5 ملزمان گرفتار

لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کے ہائی پروفائل مقدمے میں انتہائی سنسنی خیز اور اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

لاہور پولیس کو موصول ہونے والی مروجہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں ایک غیر ملکی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی باقاعدہ تصدیق ہو گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، گرفتار ملزمان میں سے تین افراد نے خاتون کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب، تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے لاہور پولیس نے ایف آئی آر میں نامزد ‘باس’ نامی مرکزی کردار سمیت مزید 5 ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے، جس کے بعد کیس میں اب تک زیرِ حراست ملزمان کی کل تعداد بڑھ گئی ہے۔

تازہ ترین گرفتاری احمد رضا ولد مظہر حیات کی عمل میں آئی ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں محمد رضا ڈار، سکندر عزیز خان، الحکیم بھٹی، حسن رضا اور ساجد علی شامل ہیں جو 5 روزہ ریمانڈ پر حوالات میں بند ہیں۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان اور متاثرہ خواتین کے ڈی این اے (DNA) کے نمونے اور ملزمان کے موبائل فونز باقاعدہ تجزیے کے لیے پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ کیس کی تفتیش مکمل میرٹ پر کی جا رہی ہے، ملزمان کو کوئی پروٹوکول نہیں دیا جا رہا اور انہیں عام ملزمان کی طرح ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان نے ان غیر ملکی خواتین کے ساتھ کرپٹو کرنسی میں 4 سے 5 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی تھی اور اسی رقم کی واپسی اور تاوان کے تنازع پر انہوں نے خواتین کو حبسِ بیجا میں رکھا اور ڈیجیٹل والٹ سے 19 ہزار ڈالر بھی زبردستی منتقل کرائے۔

کیس کی دونوں متاثرہ خواتین، جن میں سے ایک 40 سالہ اسٹرڈ گیبریلا روبنسن اور دوسری اسٹیفنی ایڈرائنا شامل ہیں، نے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو دفعہ 164 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ کرائے ہیں۔

اسٹیفنی نے اپنے بیان میں بتایا کہ ان کی مرکزی ملزم رضا ڈار سے سنگاپور میں ایک کرپٹو کرنسی ایونٹ کے دوران ملاقات ہوئی تھی۔ رضا ڈار نے خود کو پاکستان کے ایک منسٹر علی ڈار کا بیٹا ظاہر کر کے اعتماد جیتا اور اپنے واٹس ایپ پر ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ تصویر لگا رکھی تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے مشترکہ کاروبار شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اغوا کے دوران ملزمان انہیں کانچ کے ٹکڑے دکھا کر جسم کاٹنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ آخری روز ملزمان انہیں زبردستی ایئرپورٹ چھوڑنے جا رہے تھے اور فون پر بات کر رہے تھے کہ ‘باس کی ہدایات کچھ اور ہیں’۔

اسی دوران گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا تو دونوں خواتین نے چلتی کار سے باہر چھلانگ لگا دی اور شور مچا کر پولیس کی مدد حاصل کی، جہاں ٹریفک پولیس کی ابتدائی مشکوک کارروائی کے بعد اصلی پولیس موبائل آنے پر وہ محفوظ ہوئیں۔

دوسری متاثرہ خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن نے اپنے بیان میں وقوعہ کی رات کے ہولناک مناظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلی رات 4 مسلح افراد نے آ کر انہیں رسیوں سے باندھ دیا، ان کے چہرے پر گھونسے مارے اور پسٹل کا بٹ سر پر مارا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک انگریزی بولنے والے شخص نے دھمکی دی کہ اگر پیسے نہ دیے تو زندہ نہیں جاؤ گی۔ اس کے بعد اسلحہ بردار ملزمان نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر ان کے ساتھ متعدد بار زبردستی جنسی زیادتی کی اور شور مچانے پر تشدد کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فارنزک اور ڈی این اے رپورٹ موصول ہونے کے بعد عدالت میں چالان پیش کیا جائے گا تاکہ ملزمان کو سخت ترین سزائیں دلوائی جا سکیں۔