امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی پر صدر آصف زرداری کا ڈونلڈ ٹرمپ کو تہنیتی خط؛ پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے امریکی ہم منصب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی عوام کو امریکہ کے اعلانِ آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کے تاریخی اور یادگار موقع پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مروجہ اعلامیے کے مطابق، صدرِ مملکت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک خصوصی تہنیتی خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے امریکی اقدار کو سراہنے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ اور امریکی عوام کو پاکستان کا دورہ کرنے کی پرتپاک دعوت بھی دی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام صدر ٹرمپ کو ان کی سہولت کے مطابق جلد از جلد اسلام آباد میں خوش آمدید کہنے کو اپنے لیے ایک بڑا اعزاز سمجھیں گے۔

صدر آصف علی زرداری نے اپنے خط میں تحریر کیا کہ امریکا اپنی مضبوط روایات، جدت، آزادی، جمہوریت اور مساوی مواقع فراہم کرنے جیسے بنیادی اصولوں سے غیرمتزلزل وابستگی کی بنیاد پر مسلسل ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ ڈھائی صدیوں کے دوران امریکی عوام کے نمایاں کارناموں اور ایجادات نے دنیا بھر میں ترقی، خوشحالی اور امن کے فروغ میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔

صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان دیرینہ، تاریخی اور گہرے تعلقات قائم ہیں جو باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور عالمی و علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے عزم پر استوار ہیں۔

اپنے خط میں صدرِ مملکت نے امریکہ میں آباد سرگرم اور متحرک پاکستانی برادری کو دونوں ملکوں کے تعلقات کی مضبوطی کا ایک بڑا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس برادری کی کامیابیاں اور گرانقدر خدمات نہ صرف دونوں ممالک کے لیے باعثِ فخر ہیں، بلکہ یہ دونوں اقوام کے درمیان دوستی، باہمی اعتماد اور بہتر عوامی روابط کو مزید گہرا کرنے کا ایک مضبوط ترین پل ہیں۔

انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اس وقت ایک مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور پائیدار شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

صدرِ پاکستان نے اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی، تجارت و سرمایہ کاری، دفاع، انسدادِ دہشت گردی اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں قریبی اور منظم تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

علاقائی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ ایک مضبوط پاک-امریکا شراکت داری کا علاقائی امن اور استحکام میں ہمیشہ ایک کلیدی کردار رہا ہے، جس کی واضح اہمیت گزشتہ سال مئی میں اس وقت ثابت ہوئی تھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ریاستوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی کامیاب ترین ثالثی کرائی تھی۔

انہوں نے ایران کے ساتھ اہم ترین سفارتی مذاکرات کے لیے پاکستان کے ثالثی کے کردار پر امریکی حکومت کے غیرمتزلزل اعتماد کو دل کھول کر سراہا۔

صدر زرداری نے اس پختہ یقین کا اظہار کیا کہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کے پیشِ نظر یہ شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے اور کسی بھی پیچیدہ مسئلے کا پائیدار حل صرف اور صرف بامقصد مذاکرات، موثر سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی لانے کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔