دوحہ: خلیجی ملک قطر کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ امن مذاکرات میں انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
تاہم، دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ وہ اس سفارتی گفتگو کا اگلا دور سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کی تقاریب مکمل ہونے کے فوراً بعد دوبارہ شروع کریں گے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک باضابطہ بیان میں بتایا کہ دوحہ میں قطری اور پاکستانی ثالثوں نے امریکی اور ایرانی مذاکراتی وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے مختلف پہلوؤں اور نکات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ترجمان کے مطابق، یہ اہم بالواسطہ مذاکرات ‘لیک لوسرن سمٹ’ کے طے شدہ نتائج اور اصولوں کی بنیاد پر آگے بڑھائے گئے ہیں۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس عمل کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کے لیے تمام فریقین پوری طرح رضامند ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور قطر کی مشترکہ سفارت کاری خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان برف پگھلانے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

