امریکا کب تک سب کا بوجھ اٹھائے گا؟ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو اتحادیوں پر کڑی تنقید

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روایتی سخت گیر موقف کو دہراتے ہوئے نیٹو (NATO) کے اتحادی ملکوں کے دفاعی اخراجات پر ایک بار پھر شدید تنقید کی ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ مالی بوجھ اٹھا رہا ہے، لیکن اس کے بدلے میں واشنگٹن کو کوئی خاطر خواہ یا متناسب فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک تند و تیز بیان میں کہا کہ یورپی ممالک امریکی تحفظ سے تو پورا فائدہ اٹھاتے ہیں، مگر جب اپنے دفاع پر مناسب سرمایہ کاری یا فنڈز دینے کی بات آتی ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مضحکہ خیز صورتحال اب مزید برقرار نہیں رہ سکتی اور تمام رکن ممالک کو اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داری خود اٹھانی ہو گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے 2014 سے 2025 کے دوران مختلف ممالک کے دفاعی بجٹ کے باضابطہ اعداد و شمار بھی شیئر کیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں امریکا نے اپنے دفاع اور نیٹو کے لیے ریکارڈ 999 ارب ڈالر خرچ کیے۔

اس کے برعکس، نیٹو کے دیگر بڑے دعویداروں کے اخراجات انتہائی کم رہے؛ جیسے برطانیہ نے صرف 90.5 ارب ڈالر، فرانس نے 66.5 ارب ڈالر، اٹلی نے 48.8 ارب ڈالر اور پولینڈ نے 44.3 ارب ڈالر دفاع پر لگائے۔

امریکی صدر نے خاص طور پر جرمنی سمیت یورپ کے کئی دوسرے امیر ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے دفاعی اخراجات تو مذکورہ بالا ملکوں سے بھی بہت کم ہیں، جو کہ دنیا کی سپر پاور کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

ٹرمپ نے شکوہ کیا کہ برسوں سے یورپی اتحادیوں کی سیکیورٹی کا سب سے بڑا مالی بوجھ اکیلا امریکا اٹھا رہا ہے جبکہ یہ ممالک نازک مواقع پر امریکا کا ساتھ بھی نہیں دیتے۔

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگی صورتحال میں بھی نیٹو اتحادیوں نے امریکا کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا، جو ان کی مطلبی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت سے ہی نیٹو کے موجودہ ڈھانچے کے سخت خلاف رہے ہیں اور وہ مسلسل اتحادی ممالک پر زور دیتے آئے ہیں کہ وہ امریکا پر اپنا انحصار یکسر ختم کریں اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے خود پیسہ خرچ کریں۔

صدر ٹرمپ کا یہ تازہ ترین بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹو ممالک کے اندر دفاعی بوجھ کی منصفانہ تقسیم اور جنگی حکمتِ عملیوں پر پہلے ہی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔