پاک بھارت جنگ میں 11 طیارے تباہ ہوئے؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کے زخم پھر تازہ کر دیے

واشنگٹن: معرکہ حق میں ہزیمت اٹھانے والی بھارت کی مودی سرکار کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک تازہ بیان نے ایک بار پھر بڑی مشکل کھڑی کر دی ہے اور مودی حکومت کو دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کر دیا ہے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ سال ہونے والی جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان شدید عسکری تنازع کے دوران مجموعی طور پر 11 جنگی طیارے تباہ ہوئے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی اس قدر خطرناک مرحلے پر پہنچ چکی تھی کہ اگر امریکا بروقت سفارتی کوششیں نہ کرتا تو یہ جنگ ایک ہلاکت خیز ایٹمی تصادم میں تبدیل ہو جاتی، جس سے خطے کے تقریباً تین کروڑ انسانوں کی جانیں جا سکتی تھیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے جنگ بندی کے لیے خود اہم کردار ادا کیا اور اس حوالے سے جب پاکستان کے وزیر اعظم سے ان کی گفتگو ہوئی تو انہوں نے بھی اس مؤقف کی تائید کی کہ جنگ کے بروقت رکنے سے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں ممکنہ تباہی سے محفوظ رہیں۔

امریکی صدر اس سے قبل بھی کئی مواقع پر پاک بھارت جنگ بندی میں اپنے مرکزی کردار اور طیارے گرائے جانے کا تذکرہ کر چکے ہیں، جس پر مودی سرکار ہمیشہ شدید سیخ پا ہوتی ہے اور براہِ راست جواب دینے سے کتراتی ہے۔

دوسری طرف، بھارت کی اپوزیشن جماعتیں، خصوصاً کانگریس، مودی سرکار پر حقیقت چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے ٹرمپ کے ان بیانات کو مودی کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اس پورے انٹرویو نے نئی دہلی کے سیاسی اور عسکری ایوانوں میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے کیونکہ مودی حکومت نے ہمیشہ اس جنگ میں اپنے حقیقی نقصانات کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کی ہے۔