امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی امام خمینی حسینیہ منتقل

تہران: ایران کے سابق اور طویل المیعاد سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی آخری رسومات اور نمازِ جنازہ کی تیاریاں دارالحکومت تہران میں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق شہید قائد کا جسدِ خاکی تہران کے جنوبی علاقے میں واقع ‘امام خمینی حسینیہ سینٹر’ اور بعد ازاں گرینڈ مصلیٰ منتقل کر دیا گیا ہے، تاکہ عام عوام، ملکی رہنما اور دنیا بھر سے آنے والی معزز شخصیات ان کا آخری دیدار کر سکیں۔

تعزیتی تقریبات کے پیشِ نظر پورے تہران بالخصوص مصلیٰ الکبیر کے ارد گرد سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور غیر معمولی انتظامات نافذ کیے گئے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی رحلت پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے، لیکن یہ سرخ سفر کا اختتام نہیں بلکہ قومی اتحاد، استقامت اور ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آخری رسومات میں تاریخی شرکت کر کے ملکی یکجہتی کا عملی ثبوت دیں۔

واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای، جو تقریباً 37 برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے، رواں سال 28 فروری 2026 کو تہران میں مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے کے پہلے روز اپنے دیگر رفقاء اور بہو (موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ) کے ہمراہ شہید ہو گئے تھے۔

جنگی صورتحال برقرار رہنے کے باعث ان کی آخری رسومات فوری طور پر ادا نہیں کی جا سکی تھیں، جو اب باقاعدہ طور پر شروع ہو رہی ہیں۔

ان کی شہادت کے بعد ماہرین کی مجلس نے ان کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا تھا، تاہم سفارتی رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہ خود اپنے والد کی تدفین میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔

 تہران کے علاوہ نمازِ جنازہ کے اجتماعات مذہبی مرکز قم اور پھر عراق کے مقدّس شہروں نجف اشرف اور کربلا معلیٰ میں بھی ہوں گے، جس کے بعد میت کو دوبارہ ایران لا کر مشہد مقدس میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق اس پورے جلوسِ جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔

تہران کے انقلاب اسکوائر پر ان کی یاد میں ایک علامتی مٹھی بھی نصب کی گئی ہے۔

ایرانی حکومت نے اس تاریخی الوداعی موقع پر 6 جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل اور 8 جولائی کو سرکاری طور پر یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔